نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 106 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 106

ہر زمانہ میں ایسے وجود کو قرآن کریم میں شیطان کہا گیا ہے۔کیا کوئی انکار کر سکتاہے کہ ایسے شریر موذی وجودوں سے کبھی کوئی زمانہ خالی ہوا ہے جیسے اس وقت میں مضل اور مغوی وجود ہیں اورسب قوموں کے نزدیک یہ بات مسلم ہے اسی طرح آدم کے وقت میں بھی ایک شریر بلکہ موذی وجود آدم کے مقابل تھا۔تو بہکانے والے وجودوں کا کائنات میں موجود ہونا امر واقع ہے۔کوئی شخص نادانی سے قرآن شریف کی اصطلاح سے اگر چڑتاہے تو کیا وہ واقعات عالم کی بھی تکذیب کر سکتا ہے؟ ان مغوی شریروں کا ایک نمونہ اور اس کے افعال۔اقوال اور نتائج قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں اور اس طرح لوگوں پر احسان کیا ہے کہ بدکاروں کی راہ سے بچنے کی تدبیر بتائی ہے۔آدم کے مقابل جو شریر تھا اس کی نسبت قرآن کریم میں ہے۔(البقرۃ:۳۵)یعنی اس نے سرکشی کی اور انکار کیا اور وہ کافروں میں سے تھایاہوا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہلاکت کو خود اس نے اپنی سرکشی سے خریدا۔خدا نے اسے بجبر ہلاک نہیں کیا۔ہاں ممکن ہے کہ بدفہمی کی وجہ سے لفظ اَغْوَیْتَنِی سے جو آیت ذیل میں ہے یہ بات تم نے اخذ کی ہو۔سنو اور غور کرو ! وہ مقام کیا محل اعتراض ہے۔(الحجر :۴۱) شیطان نے کہا میرے رب ! بسبب اس کے کہ تو نے مجھے غوی ٹھہرایا میں بھلے کر دکھاؤں ۱؎ گا ان کے لئے اور ضرور غوی ٹھہراؤں گا ان کوسب کو۔۲؎ غی مجرد ہے۔اغوا اس کے مزید کے معنے ہیں۔اضلال۔ا ہلاک۔افساد۔نامراد کرنا۔بدمزہ ۱؎۔قرآن کریم میںہے شیطان بھلے کر دکھاتاہے بدعملوں کی بدعملی۔منہ ۲ ؎ غی کے معنے ہیں ضلال۔ہلاکت نامرادی۔بدمزگی۔عیش تلخ۔بد اعتقادی کی جہالت۔ابن الاثیر۔راغب۔تاج۔لسان العرب۔منہ