نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 96 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 96

اور امتحان کے اصل معنی ہیں محنت کا لینا۔ایک دنیا دار امتحان کے لئے کواغذ امتحان کے جواب مثلاً دیکھتا ہے تو اس لئے کہ طالب العلم کی محنت کا اس کو پتہ لگ جائے اور محنت کا نتیجہ اس کو دے اور اللہ تعالیٰ بھی امتحان لیتا ہے یعنی محنت کرانا چاہتاہے سستی کو ناپسند کرتاہے۔ہاں علیم وخبیر ہے جب کوئی محنت کرتاہے جیسے کوئی محنت کرے ویسی ہی جناب الٰہی سے محنت کرنے کا بدلہ ملتا ہے۔گندم از گندم بروید جو زجو از مکافاتِ عمل غافل مشو اسی امتحان کے معنوں کو ایک حکیم مسلمان نے نظم کیا ہے اور اسی سچے علم کو قرآن کریم نے یوں بیان کیا ہے(النجم :۴۰تا۴۲)اور انسان کو اس کی سعی کے سوا اورکوئی فائدہ نہیں ملے گا اور یہ پختہ بات ہے کہ اس کی سعی دیکھی جائے گی پھر اسی کے مطابق واقع اسے پورا بدلہ دیاجائے گا۔اور فرمایا۔َ(الانبیاء :۹۵) ترجمہ۔ا ور جو شخص نیک کام کرے گا اور وہ مومن بھی ہو گا تو اس کی سعی کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور ہم اس کی سعی اور اعمال کو محفوظ رکھنے والے کے ہیں۔پھر تقدیر کے معنے علم الٰہی کے بھی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام اشیاء کا علم جناب الٰہی کو قبل از ایجاد اور وجود ان اشیاء کے حاصل ہے اس مسئلہ میں بھی آریہ اسلام کے مخالف نہیں مگر اس بحث کو طول کے باعث سر دست ترک کرتے ہیں۔سوال نمبر۹۔جو ہوتا ہے خدا کے حکم سے پس زنا۔چوری۔شراب۔ڈاکہ۔قتل۔خون سب اس کے حکم سے ہوا شیطان بیچارے کو کیوں بدنام کیا جاتاہے۔الجواب۔اس سوال کے متعلق جو آپ نے حوالہ دیاہے اس کا تذکرہ قرآن کریم میںنہیں۔شاید سہوکاتب ہومگراتنابتادیتے ہیں کہ تمام قرآن مجید زناکاری۔شراب نوشی۔ڈاکہ۔چوری۔قتل۔خون اور لوٹ مار کے ناپاک حکموں سے پاک ہے اور ان حرام کاریوں کا عملاً استیصال کرنے والا ہے