نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 95 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 95

سنو !تقدیر کے معنے ہیں اندازہ بنا دینا۔اس کا ثبوت قرآن کریم میں یہ ہے:۔(الفرقان :۳)کیا معنے ؟ہر ایک چیز کو اللہ تعالیٰ نے بنایا پھر اس ہر چیز کے لئے ایک اندازہ اور حد مقرر کر دی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ماسوا سب محدود اور اس کے احاطہ کے ماتحت ہے اب غور کر لو کہ یہ مسئلہ ڈھکوسلا ہے یا تمام ترقیات دینی اور دنیوی اسی تقدیر اور اندازہ سے ہو رہی ہیں اگر اس کو نہ مانا جاوے تو نہ دین رہے اور نہ دنیا۔مثلاًہم اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری اس لئے کرتے ہیں کہ اس کا اندازہ یہی ہے کہ ان باتوں کا نتیجہ ہمارے حق میں نیک اور عمدہ ہو گا۔اگر اس اندازہ پر ایمان نہ ہوتو پھر نیکی کیوں کی جاوے۔غرض اس آیت نے بتایا ہے کہ ہر ایک عمل نتیجہ خیز ہے اور بڑے علیم وحکیم نے تمام کارخانہ مضبوط علمی رنگ کا بنایا ہے اس میں کوئی حرکت اور سکون عبث اور بے نتیجہ نہیں۔یہ آیت ہر شخص کو چست اور کارکن بننے کی حد سے زیادہ ترغیب دیتی ہے۔کس قدر نابینائی یا اعتراض کرنے کی ٹھیکہ داری ہے کہ ایسے حقائق کو ہنسی اور نکتہ چینی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔کاش لوگ سمجھیں کہ اس نئے گروہ کو راست بازی سے کس قدر تعلق ہے اور ان کی عملی حالت کیا؟ اور تدبیر کا مسئلہ تو ایسا صحیح ہے کہ دیندار اور بے دین اللہ تعالیٰ کو ماننے والے اور نہ ماننے والے سب اس مسئلہ کو ضروری اور واجب العمل یقین کرتے ہیں اور تدبیر کے معنے ہی یہی ہیں کہ تقدیر کے مطابق تہیہ اسباب کیا جاوے۔آپ نے بھی تقدیر اور تدبیر پر اپنے خیال میں عمل کیا ہے۔پہلے یقین کیا کہ ترک اسلام اور آریہ طریق پر برہمچریہ بننا آپ کے لئے مفید ہو گا۔پھر اس کے مطابق آپ نے یہ تدبیر کی کہ آریہ سے تعلق پیدا کیا۔پھر آریہ بنے پھر لیکچر دیا اور آپ نے یا آپ کے رفقاء نے اس کو طبع کرایا کہ مفید ہو گا۔اب آپ کی تدبیر تقدیر کے موافق ہو گی نہ ہو گی اس کا پتہ لگ جاوے گا۔بہرحال تقدیر اور تدبیر دونوں پر عمل درآمد کیا۔