نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 319 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 319

تمام علم سر دردی ہیں سوائے علم کلام اللہ کے۔اس کے سوا سب کو چھوڑدے او ر بیکار کر دے اور کلام اللہ کے محامد کا شمار نہیںاور نہ اس کے مکارم کی حد ہے۔اس کی بیان کردہ باتوں کا حصر نہیںاور اس کے علوم کی گنتی نہیں۔و ہ اہل اسلام کا امام ہے اوراصل مطلبوںکا دارو مدار ہے۔پھر آخر اسی ساطعہ میں لکھا ہے۔وما علم علوم کلام اللہ کلھا احد الا اللہ ورسولہ واولوا العلم کلام الٰہی کے سب علوم کو کسی نے نہ جانامگر اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول اور اولواالعلم نے۔فرحمک اللہ بخدمتک القرآن و تسوید و جہ زعیم الاریۃ و ارحم سلطانک الذی عظمک واکرمک وجعلک من المقربین۔یہ دیانندی تحقیق کا ثمرہ ہوا۔رہی یہ بات کہ قرآن کریم کی مثل جو طلب کی گئی وہ کس امر میں مثل مطلوب تھی۔اس پر علماء نے طبع آزمائیاں کی ہیںاور ہر ایک نے اپنے اپنے مذاق پربے نظیری کو قائم کیا ہے۔۱۔کسی نے کہا ہے قرآن کریم اپنی بے نظیر تاثیر میں بے مثل ہے یہ بات بے ریب قابل قدر ہے کیونکہ قرآن کی ہی تاثیر تھی کہ عرب جن پر کبھی کسی کتاب کا اثر نہ ہوا اس کتاب سے مؤثر ہوئے۔وید کے مدعیو !حالانکہ صرف دعویٰ بلادلیل کوئی چیز ہی نہیں۔کیا آریہ ورت میں ویدک وحدت مذہبی دکھا سکتے ہو۔کیا جینی وید کے قائل دکھا سکتے ہو ؟کیا بدھ و جینی وید کے قائل ہیں ؟تاثیر کا پتہ مرکزکو دیکھنے سے لگتا ہے۔کیا کاشی جی ہری دوا ر پیراک راج میں ویدک دھرم کا مرکز ہے۔۲:۔کسی نے کہا ہے قرآن کریم تمام انسانی جماعت کے مشترکہ ضروریات کا جامع ہے۔علوم الٰہیہ، اخلاق ،معاشرت ،تمدن اور سیاست کے اصول مسائل کا جامع ہے۔پھر انسانی عقل کو استنباط و استخراج مسائل کے لیے بیکا ر نہیں کرتا۔حوادث جدیدہ کے واسطے استنباط مسائل کی اجازت دیتا ہے۔تمام علم سر دردی ہیں سوائے علم کلام اللہ کے۔اس کے سوا سب کو چھوڑدے او ر بیکار کر دے اور کلام اللہ کے محامد کا شمار نہیںاور نہ اس کے مکارم کی حد ہے۔اس کی بیان کردہ باتوں کا حصر نہیںاور اس کے علوم کی گنتی نہیں۔و ہ اہل اسلام کا امام ہے اوراصل مطلبوںکا دارو مدار ہے۔پھر آخر اسی ساطعہ میں لکھا ہے۔وما علم علوم کلام اللہ کلھا احد الا اللہ ورسولہ واولوا العلم کلام الٰہی کے سب علوم کو کسی نے نہ جانامگر اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول اور اولواالعلم نے۔فرحمک اللہ بخدمتک القرآن و تسوید و جہ زعیم الاریۃ و ارحم سلطانک الذی عظمک واکرمک وجعلک من المقربین۔یہ دیانندی تحقیق کا ثمرہ ہوا۔رہی یہ بات کہ قرآن کریم کی مثل جو طلب کی گئی وہ کس امر میں مثل مطلوب تھی۔اس پر علماء نے طبع آزمائیاں کی ہیںاور ہر ایک نے اپنے اپنے مذاق پربے نظیری کو قائم کیا ہے۔۱۔کسی نے کہا ہے قرآن کریم اپنی بے نظیر تاثیر میں بے مثل ہے یہ بات بے ریب قابل قدر ہے کیونکہ قرآن کی ہی تاثیر تھی کہ عرب جن پر کبھی کسی کتاب کا اثر نہ ہوا اس کتاب سے مؤثر ہوئے۔وید کے مدعیو !حالانکہ صرف دعویٰ بلادلیل کوئی چیز ہی نہیں۔کیا آریہ ورت میں ویدک وحدت مذہبی دکھا سکتے ہو۔کیا جینی وید کے قائل دکھا سکتے ہو ؟کیا بدھ و جینی وید کے قائل ہیں ؟تاثیر کا پتہ مرکزکو دیکھنے سے لگتا ہے۔کیا کاشی جی ہری دوا ر پیراک راج میں ویدک دھرم کا مرکز ہے۔۲:۔کسی نے کہا ہے قرآن کریم تمام انسانی جماعت کے مشترکہ ضروریات کا جامع ہے۔علوم الٰہیہ، اخلاق ،معاشرت ،تمدن اور سیاست کے اصول مسائل کا جامع ہے۔پھر انسانی عقل کو استنباط و استخراج مسائل کے لیے بیکا ر نہیں کرتا۔حوادث جدیدہ کے واسطے استنباط مسائل کی اجازت دیتا ہے۔