نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 320 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 320

۳:۔کسی نے کہا کہ تمام کتب الٰہیہ دعاوی ہیں مگر دلائل سے ساکت ہیں بخلاف اس کے قرآن کریم الٰہیات میں دعاوی کے دلائل بھی بیا ن کرتا ہے اور اسی لیے مجھے امام غزالی کا یہ قول ہمیشہ ناپسند ہے جو انہوں نے فرمایا ہے تحقیقات میں میرا مذہب برہان ہے اور سمعیات میں قرآن۔مگر میرا ایمان ہے کہ سمعیات کو عقلی بنا دینا اور تحقیقات کو برہان و وجدان اور سنن الٰہیہ سے ثابت کر دینا قرآن کا کام ہے۔موضوع کتاب سے بات باہر نکل جاتی ہے ورنہ میں بیان کرتا کہ کس طرح میں نے سو فسطائیوں ، دہریوں ، برہموں ،عیسائیوں،آریہ ،سکھ،شیعہ ،خوارج ،زمانہ کے عوام متصوفین ، جہلا اور جامد مقلدین سے قرآن سے مباحثہ کئے ہیں اور ہر ایک پر حجت پوری کی ہے۔۴:۔کسی نے کہا ہے قرآن کریم واقعات کو قبل از وقوع بیان کرنے میں بے نظیر ہے اس نے اتباع قرآن کی کامیابی اور منکرین کی ناکامی کو پکار پکار کر بیان کیا ہے اور آخر دیکھ لو بلاد عرب ، عراق عرب ، عراق عجم ،خراسان اور ہندو شام ،روم ،مصرو بربر اور بلاد مغرب گواہی دیتے ہیں کہ اس کے یہ دعاوی سچ ہیں۔مثلاً یہ خبر کہ مکہ معظمہ معظم و مکرم رہے گا اور معہ مدینہ طیبہ کے فتن دجال سے مصئون و مامون رہے گا۔اب دیکھ لو فتن دجال سے تمام بلاد سوائے مکہ و مدینہ کے پامال ہو گئے ہیں۔۵:۔کسی نے کہا عرب کے قلوب نے معارضہ سے اعراض کیا۔۶:۔کسی نے کہا قرآن کریم تمام کتب سماویہ کی اصل تعلیم کا جامع ہے اس کا دعویٰ ہے (البیّنۃ :۴) ۷:۔کسی نے کہا قرآن کریم فصاحت و بلاغت میں بے نظیر ہے۔یہ وجہ اس وقت کے لحاظ سے جب مکہ معظّمہ میں بے نظیر ی کا دعویٰ کیا گیا تھا قوی ہے کیونکہ اس وقت تاثیرات وجامعیت وغیرہ کے بیان کاکامل وجودنہ تھا جیسے پیچھے ظاہرہوا کیونکہ یہ دعویٰ مختلف سورتوں میں کیاگیا ہے۔بقرہ، یونس، ہود اور بنی اسرائیل میں اور ہومر،ملٹن،شکسپیئر،مکالے،کالیداس،بالمیک۔وارث نے کب دعویٰ کیا کہ ہمارا کلام ایسا بینظیر ہے کہ انسانی کلام نہیں بلکہ الٰہی کلام ہے۔پس بات یہی