نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 313 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 313

حکم قرآنی اب منسوخ ہے۔آپ کے پاک جانشینوںابو بکر ؓو عمرؓنے جنکی نسبت الٰہی ارشاد ہے۔(التوبۃ:۱۰۰) اور ان کے اتباع کو باعث اپنی رضامندی کا فرمایا ہے۔انہوں نے بھی نہیںفرمایا کہ فلاں حکم قرآنی اب منسوخ ہے۔اس پربالکل عمل درست نہیں۔نسخ کے معنی اگر ابطال حکم کے ہیں کہ قرآن میں ایک حکم موجود ہو اور وہ منسوخ کیا گیا ہو تو ایسا حکم بھی مجھے ہر گز معلوم نہیں۔اگر کسی کواس کے خلاف دعویٰ ہو تو ثبوت دے۔قرآن کریم حسب ارشاد الٰہی اکمال کے لئے آیا ہے۔جیسا اس نے فرمایا۔(المائدۃ:۴) پس وہ حقائق ثابتہ کے ابطال کے لئے نہیں آیا بلکہ اثبات حقائق کی خاتم الکتب ہے۔ترک اسلام کے صفحہ ۶۲کے سوال ۱۱۳کاایک طریق سے جواب۔حکم کہیںبوجہ غلطی اور ناسمجھی حاکم کے بدلا جاتا ہے اور کبھی بوجہ تبدّل مصلحت بدلا جاتا ہے۔طبیب کہیں تشخیص میںغلطی کرتا ہے اوراس و جہ سے اپنی غلطی پر اطلاع پاکر پہلے نسخہ کو بدل دیتا ہے اور کبھی بوجہ تبدل حالات مریض یا اس لئے کہ پہلی دوائی کا وقت گزر گیا اس پہلی دوائی کو بدل دیتا ہے۔مثلاًاثناء علاج بخار میںاگر سرسام ہوجائے توبو جہ تبدل احوال مریض نسخہ بدلا جاتاہے اور بعد مسہل کے جومقوی نسخہ لکھا جاتا ہے تو یہ تبدیل بو جہ اختتام پہلی دوائی کے وقت کے ہوتی ہے مگر ہرچہ باداباد۔ان دونوں صورتوں میںتغییر وتبدیل اس و جہ سے نہیں ہوتی کہ طبیب نے اپنی غلطی پر اطلا ع پائی۔اسی طرح سوچو خدا کے احکام میں تبدل وتغیّر بھی اسی دو سری قسم کاہوا کرتا ہے پہلی قسم کا نہیں ہوتا۔مگر حضرت معترض کوان دونوں صورتوںکی خبر ہی نہ ہو تو وہ کیا کریں۔معذور ہیں۔(انتصار الاسلام سعیریسیر) للمولوی محمد قاسم۔