نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 311 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 311

سوال نمبر۱۱۲۔بلسان عربی مبین پر اعتراض کیا ہے۔اگر عرب عذر کر سکتے تھے کہ ہم عجمی نہیں جانتے تو عرب کے ماورا ء اور بلاد کے لوگ عذر کر سکتے ہیںکہ ہم عربی نہیں جانتے پھر کتاب الٰہی اسی زبان میںآنی چاہیے جو کسی قوم و ملک سے خصوصیت نہ رکھے اور سب السنہ کی جڑہو۔الجواب۔عرب لوگ تو عذر کر سکتے تھے اور ان کا حق تھا اور انہوںنے عذر کیا۔تم لوگ عذر نہیں کر سکتے اور نہ تم نے اب تک عذر کیا اور نہ تمھارا حق ہے کہ عذر کرو۔یہ میری بات معمّہ پہیلی نہیںتم کو ذرا تفصیل سے سناتا ہوں سنو اور پھر دیدہ ٔبصیرت سے دیکھو۔مذہبی طور پر اگر دیکھا جاوے تو تمام بلاد مذہبی تقسیم سے دو حصوں پر منقسم ہیں اول مشرقی بلاد۔مشرق سے میری مر اد اس وقت ایران سے لے کر جاپان تک ہے۔دوم بلاد مغرب۔مغرب سے مراد میری بلاد شام سے لے کر یورپ و امریکہ تک ہے۔کون منکر ہے یا انکار کر سکتا ہے کہ ایران یا تمہارا کہا مان لیتے ہیں کہ ہندوستان مرکز ہے ایک مذہب کا جس کو ہندوستان یا ایران نے مانا اور انہیں کا اثر چین و جاپان تک پہنچاکیونکہ بدھ جی آرین تھے اور گیا اس کا مرکز ہے اور امریکہ و یورپ مسیحی مذہب کے ما تحت ہے اور مسیح علیہ السلام یروشلم کے باشندے تھے اور عبرانی تھے۔پس ایرانی یا آرین یا عبرانی انبیاء و اولیاء و اصحاب کے ہی مذہب کی حکومت ان تمام بلاد میں رہی۔پس جو لوگ عبرانیوں کے ماتحت حکومت رہ چکے ہیں وہ کیونکر عذر کر سکتے ہیں کہ اپنی بولی کے سوا دوسری زبان کی کتاب کے ہم ماتحت نہیں ہو سکتے۔اسی طرح جو لوگ وید کی زبان جو کسی ملک کی زبان نہیں یا ایرانی زبان کے ماتحت رہ چکے وہ کیونکر عذر کر سکتے ہیں کہ ہم اپنی زبان کے ماوراء کسی زبان کی کتاب کے ماتحت نہیں ہو سکتے۔ہاں عرب عذر کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے مرکز نے غیر زبان کو نہیں مانا اور مرکز عرب پر دونو ں کی سلطنت قطعاًنہیں ہوئی اور دونوں کا کوئی اثر مر کز عرب پر نہیں پڑا۔غور کرو ارمیاہ کی کتاب کے ابتداء میں مانا گیا ہے کہ عرب پر کوئی اثر تعلیم عبرانیوں کا نہ تھا اور تم تو مانتے ہی ہو کہ ان پڑھو ں میں ان پڑھ رسول ہمارے رسول تھے ﷺ۔پس ان کویا ان کی