نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 301
کیونکر چسپاں ہو گا۔لے پالک بیٹا حقیقتاً بیٹا ہی نہیں اور اس کو بیٹا کہنا سچ نہیں۔اسی واسطے قرآن نے جو حقیقت کا کاشف ہے اس کو بیٹا کہنا جائز قرار نہیں دیا کیونکہ بیٹا باپ کی جز ہو تا ہے اور لے پالک غیر اور غیر کی نسل سے ہے۔مجھے ہمیشہ خیال آتاہے کہ حقیقی علوم کا معلم نیوگ کو کیونکر جائز کر سکتاہے کیونکہ نیوگی بیٹا نیوگ کنندہ کا نطفہ اور اس کا جزو ہوتا ہے۔نیوگ کنندہ اولاد کا لالچ دیکر لذت و مزہ بھی اٹھا لے اور پھر اپنے بیرج کی اولاد کو دوسرے کے مال ودولت کا مالک بھی بنا لے اور آہستہ آہستہ جوڑ توڑ کر کے آخر عورت بھی اڑا لے اور اپنا ہی بیٹا جائداد کا مالک کر دے اور پھر عذر کر دے کہ یہ وید کا ارشاد ہے۔آہ کوئی سمجھنے والا ہو!! پھر اسلام میں لے پالک کی بیوی کیونکر جائز ہو گی جبکہ لے پالک بنانا ہی جائز نہیں پھر کسی دوسرے کی بی بی بدوں طلاق کے اور اس کی عدت گذرنے سے پہلے جائز نہیں۔پھر بدوں نکاح اور گواہوں بلکہ بلا رضامندی ان والیوں کے جو عورت کے مہتمم ہو ں ہمارے مذہب میں کسی عورت کا بیاہنا جائز نہیں ہاں نیوگ میں یہ سب کچھ ہو سکتاہے۔سو وہ ہمارے یہاں ممنوع او ر آپ کے یہاں ضروری ہے۔سوچو اور غور کرو کہ اس خبیث الزام کا نشانہ وید کا مذہب ہے یا کوئی اور ! خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس کا کلام قرآن کریم ہر قسم کے ناپاک الزاموں سے پاک اور اس کے غیر ہر طرح کی نجاستوں میں آلودہ ہیں۔کوئی رشید ہے جو غور کرے!!! سوال نمبر ۱۰۴۔غریبی سے مت ڈرو نکاح کر لو خدا تم کو غنی کر دے گا۔اس پر ہنسی کی ہے اور تمسخر سے کام لیا ہے۔الجواب:۔منو میں تو یہ لکھا ہے کہ عورت کی حفا ظت کرنے سے اپنے خاندان ،اولاد ،آتمہ ، دھرم وغیرہ کی حفاظت ہوتی ہے۔منو ادھیا۹۔۷۔اور اسی منو کے ادھیا ۹شلوک ۳۰میں ہے پت نام ہے دوزخ کا اور اتر بمعنی محافظ کے ہیں چونکہ بیٹا باپ کو دوزخ سے بچاتا ہے اس سبب سے پتر کہاتاہے اس بات کو شری برہما جی نے کہا ہے۔