نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 287
سوال نمبر ۹۵:کافروں کو جہاں پاؤقتل کر ڈالو یہ تعلیم امن وچین کا کس قدر خون کر نے والی ہے۔الجواب: مگر نہ ایسی جیسے خطرناک ویدک تعلیم ہے کیو نکہ ستیا رتھ ۱۸۱میں لکھا ہے ایشر ہدایت فرماتا ہے کہ اے فر ما ن روا لو گو!تمہا رے اسلحہ (ہتھیا ر ) آتشین وغیر ہ از قسم شستر توپ ، تفنگ ، تیروتلوار وغیرہ شستر مخالفوں کو مغلوب کرنے اور ان کو روکنے کے لیے قابل تعریف اور بااستحکام ہوں۔تمہاری فوج مستوجب توصیف ہو تا کہ تم لوگ ہمیشہ فتح یاب ہو تے رہو۔پھر سفیر کا خاص کام ستیارتھ پرکاش کے صفحہ ۱۹۲ میں لکھا ہے اور بد اندیشوں کے جتھوں کو توڑپھوڑ دے۔سفیر کاعمل ایسا ہو نا چاہیے جس سے دشمنوں میں پھوٹ پڑجاوے۔منو ۷۔۶۸۔ستیارتھ ۲۱۱۔منو ۷۔۱۹۵ کسی وقت مناسب سمجھے تو دشمن کو چاروں طرف سے محاصرہ کر کے اور اس کے ملک کو تکلیف پہنچا کر چارہ ، خوراک ،پانی اور ہیزم کو تلف و خراب کر دے۔منو ۷۔۱۹۶،ستیارتھ ۲۲۴۔بد اعمال آدمیوں کے مارنے میں قاتل کو پاپ نہیں ہوتا خواہ اعلانیہ مارے خواہ غیر اعلانیہ کیونکہ غضب والے کو غضب سے مارنا گویا غضب سے غضب کی لڑائی ہے۔منو ۸۔۳۵۱۔جرائم میں سخت سزا دینا دراصل سختی نہیں ستیارتھ۲۲۰۔جو اس کو سخت سزا جانتے ہیں وہ سیاست ملکی کے اصول کو نہیں سمجھتے اور ایسے حوالے بیسیوں نہیں صدہا نہیں، ہزاروں ہیں۔جس آیت پر تم نے نا فہمی سے اعتراض کیا ہے اس کے پہلے ہے۔(الاحزاب :۵۹) یعنی مومن مردوں اور عورتوں کو بے جا اور ناحق دکھ دینے والے بہتان اور بھاری گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔پھر فرماتا ہے۔(الاحزاب :۶۱،۶۲) یعنی اگر یہ منافق اور دل کے بیمار اور مدینہ میںبری خبریں اڑانے والے اب بھی باز نہ آئیں تو