نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 14
لائق ویدک سنسکرت پڑھا آریہ سماجی نہیں دیکھا بلکہ منشی رام جی جگیا سو کے ترجمہ بہومکا سے یہ عجیب مسئلہ معلوم ہوا کہ ۱۸۹۱ ء میں لیکھرام کے ذریعہ پتہ لگا کہ دیانند جی کے مہان بھاشیہ میں ارتھ انرتھ ہیں اور بھاوارتھ غلط۔دیکھو منشی رام کا ترجمہ۔دیانندی وید بھومکا صفحہ نمبر ۳،۴،۵ فقرہ دوم : تارک اسلام نے وجوہ ترک اسلام پر جو لیکچر دیا ہے اس میں ایک سو پندرہ سوال بلکہ اعتراض اسلام پر کئے ہیں۔جب ان کے جوابات سے محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے فراغت پائی تو لیکچر کی تمہید پر توجہ کی۔دیکھا تو اس میں بھی پندرہ بیس اعتراض اسلام پر جڑ دئیے ہیں۔اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ ان کا جواب دیباچہ میں دیا جائے اور چونکہ وہ سوال کئی قسم پر منقسم ہیں اس لئے ہم ان کا تین فقروں میں جواب دیتے ہیں۔اعتراض قسم اوّل: اسلام کی تعلیم عقل۱ کے خلاف ہے۔اسلام کی تعلیم وحشیا۲نہ،ظالما۳نہ اور ادنیٰ۴ تعلیم ہے۔اس واسطے ان سوالات کے جواب میں ضروری معلوم ہوا کہ نمونہ کے طور پرتعلیم اسلام کو پیش کر دیا جاوے مگر اسلام تیس پارہ قرآن اور نبی کریم ﷺ کے عمل درآمد کا نام ہے۔اس لئے مشتے نمونہ از خروارے اور دانہ از انبارے دکھایا جا سکتا ہے۔اور مختصراً ان اعتراضات کا جواب یہ ہے۔یہ کہنا کہ اسلام عقل۱ کے خلاف ہے محض بے عقلی بلکہ بے ایمانی کی بات ہے اس لئے کہ قرآن کریم اپنی تعلیم کی خوبی اور سچائی کے اظہار اور ثبوت کے واسطے عقل حاصل کرنے کی ہدایت کرتا ہے جیسے فرماتا ہے: (البقرۃ : ۲۴۳) یعنی اللہ اپنی آیات تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تو کہ تم عقل حاصل کرو یا اسے کام میں لاؤ۔اسی طرح عقل اور علم کی طرف مختلف پیرایوں میں اپیل کرتا ہے اور قرآن کریم اس سے بھرا پڑا ہے۔باایں ہمہ ایسی کتاب کی تعلیم کو عقل کے خلاف کہنا نادانی یا بے ایمانی نہیں تو کیا ہے؟