نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 13 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 13

فلان کان یعطی فخدع فلا نا دیتا تھااب اس نے دینا چھوڑ دیا۔پس (النساء : ۱۴۳) کے معنے یہ کیوں نہیں کرتے کہ اللہ ان منافقوں کو محروم رکھنے والا ہے۔اسی طرح تمام الاشباہ والنظائر میں ایسا ہی برتاؤ کرو اور مثلاً (الضحیٰ : ۸) میں ضلال کا اثبات نبی کریم کے لئے ہے مگر (النجم : ۳) میںضلال کی نفی بھی آپ کے حق میں موجود ہے تو دونوں پر ایمان لا کر ایک جگہ ضلال کے معنے محب طالب سائل کے کرو جو (الضحٰی : ۱۱) کی ترتیب سے ظاہر ہوتے ہیں اور دوسری جگہ گمراہ کے معنے لو جوکے مناسبت سے درست ہیں۔امام سیوطی رحمۃ اللہ نے صرف اسی بات پر ایک لطیف رسالہ لکھا ہے جس کا نام الوجوہ والنظائر ہے۔مگر افسوس ہے کہ دیانند نے خوداپنے قائم کردہ اصول کا لحاظ نہ کیااور کروڑوں معتقدان اسلام کا دل دکھایااور ا ن کو بُرا کہا۔آریہ مسافر و دھرمپال تو اس کے اتباع ہیں۔اب ہم اس مضمون کو ختم کرتے ہیں مگر شاید اتنااور کہہ دینانا مناسب نہ ہو گا کہ کس قدر آریہ سماج لوگوں کی بے انصافی ہے کہ غیروں پر اعتراض کرتے وقت یا معاملہ و انصاف کرتے وقت عدالت میں مسلمانوں کا سر توڑنے اور جان ومال و عزت تباہ کرنے کو کیسے دم نقد تیار ہیں۔محمود غزنوی اور عالمگیر کا خیالی بدلہ لیتے ہیںیا آریہ مسافر کااوراپنے بارے میں اعتراضوں سے یوں بچاؤ کر لیتے ہیںکہ تمام پُران اور آرین تفاسیر بلکہ یورپ کے تراجم وید سب کے سب غلط ہیں۔مہارشی کی کتابوںسے کچھ لے کر کوئی اعتراض کرے تو فرماویں سوامی جی بھاشہ زبان نہیں جانتے تھے؟ان کے ستیارتھ اور ویدوں کے بھاو ارتھ اور ناگری ترجمہ میں جاہل،بے ایمان پنڈتوں کی شرارتوں کا دخل ہے یہ قابل اعتماد و اعتقاد نہیں۔اب ہم کو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہزاروں آریہ سماجی کیاحق و حقیقت کو ویدک سنسکرت یا لوکک سنسکرت سے لے کر اپنے اقوال و اعمال کو درست کر رہے ہیں۔میں نے تو اب تک ایک بھی