نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 11 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 11

(العنکبوت : ۷۰) سوم: تدبر، تفکر۔قرآن مجید میںارشاد ہے:(محمّد : ۲۵) اور فرمایا : (آل عمران : ۱۹۱،۱۹۲) چہارم: حسن اعتقاد وحسن اقوال وحسن اعمال اور فقر ،بیماری، مقدمات و مشکلات میں صبر و استقلال۔اس مجموعہ کو قرآن نے تقوٰی کہا ہے۔دیکھو رکوع (البقرۃ : ۱۷۸) اور اس کا ایک درجہ سورہ بقرہ کے ابتدا میں ہے جیسے فرمایا ہے کہ اَلْغَیْب پر ایمان لاوے۔پرارتھنا اور دعا اور بقدر ہمت وطاقت دوسرں کی ہمدردی کے لئے کوشش کرنے والا متقی ہے اور تقویٰ کے بارے میں ارشاد الٰہی ہے:(البقرۃ : ۲۸۳) ہے لیکن خود پسند آدمی آیات الٰہی کے سمجھنے میں قاصر ہے جیسے فرمایا:(الاعراف : ۱۴۷) پنجم: قرآن کریم کے معانی خود قرآن مجید اور فرقان حمید میں دیکھے جاویں۔ششم: اسماء الٰہیہ اور الٰہی تقدیس و تنزیہ کے خلاف کسی لفظ کے معانی نہ لئے جاویں۔ہفتم: تعامل سے جس کا نام سنت ہے ،معانی لے اور اس سے باہر نہ نکلے۔ہشتم: سنن الٰہیہ ثابتہ کے خلاف ورزی نہ کرے۔نہم: لغت عرب و محاورات ثابتہ عن العرب کے خلاف نہ ہو۔دہم: عرف عام سے جس کو معروف کہتے ہیں ،معانی باہر نہ نکلیں۔یاز دہم: نور قلب کے خلاف نہ ہو۔دواز دہم: احادیث صحیحہ ثابتہ کے خلاف نہ ہو۔سیزدہم: کتب سابقہ کے ذریعہ بھی بعض معانی قرآن حل کئے جاتے ہیں۔