نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 10 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 10

جیسا ہوتا ہے وہ عموماً اپنی ہی مانند دوسرے کو سمجھتا ہے۔ستیارتھ ۵۷۴۔اس قسم کی نصائح دیانند جی کی دیکھو صفحہ نمبر ۵۶۶سے ۵۸۰تک۔دھر م پال بلکہ آریہ سماج انصاف کرے کہ وہ عملاً ان میں سے کن اصول کی پابند ہے۔آیا ان کلمات پر ہم نہیں کہتے کہ سب آریہ ایسے ہیں۔گو وہ کروڑوں نہیں اور پھر ہم کروڑوں ہیںاور ہمیں بُرا کہا گیامگر ہم ایسی سخت کلامی سے کیونکر کام لیں۔ہمیں تو قرآن کریم یہود و نصاریٰ کے اس غلط قول کو نصیحت کے طور ہمیں بتاتا ہے: (البقرۃ : ۱۱۴) بیہود نے کہا نصرانی کچھ بھی نہیں۔نصرانیوں نے کہا یہود کچھ ہی نہیں۔حالانکہ کتاب پڑھتے ہیں۔اس طرح تو بے علم لوگوں نے کہا ہے یا کیا ہے۔ہمارے نزدیک آریہ سماج کی محنتیں بہت کچھ قابل قدر ہیں۔اوّل انہوں نے شرک کے دور کرنے میں بڑاکام کیا جو قابل شکر ہے۔دوم ناجائز تقلید کو توڑ کر غلط خیالات کو چھوڑنے اور اس کے بدلہ عمدہ بات کو لینے میں قوم کو دلیر کر دیا ہے۔سوم وام مارگیوں۔ساکتوں۔اگھوریوں۔بکالیوں۔تالنگیوں کے ہزاروں گندوں کو دور کیا۔گو بعض اشیاء کی قدامت اور غیر مخلوق ہونے کا اعتقاد ابھی ساتھ ہے اور دیانندی تقلید بھی کچھ ہے اور نیوگ کو مصلحتاً جائز رکھا ہے مگر جہاں تک نیکی کی وہ قابل شکر گزاری ہے۔میرے فہم میں کلام الٰہی کے سمجھنے کے لئے یہ اصول ہیں۔اوّل: دعا(پرارتھنا)جناب الٰہی سے صحیح فہم اور حقیقی علم طلب کرنا۔قرآن مجید میں آیا ہے۔(طٰہٰ :۱۱۵) میرے رب ! میرے علم میں ترقی بخش۔اور دعا کے لئے ضرور ہے طیب کھانا،طیب لباس،عقد ہمت،استقلال۔دوم: صرف الٰہی رضا مندی اورحق تک پہنچنے کے لئے خدا میں ہوکر کوشش کرنا جیسے فرمایا :