نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 9 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 9

ہیںبلکہ ایک امرتسری متکلّم تو اپنی کتاب میں یہ بھی لکھتا ہے کہ دھرم پال بھی مرزا کی تحریر سے آریہ ہوئے ہیں حالانکہ ترک اسلام میں اس نے اشارہ بھی مرزا کی تعلیم پر نہیں کیا۔کہیں پال نے کسی اخبار میں ایسا لکھا تو امرتسر ی صاحب نے اس کو تسلیم کر لیا۔اور ایک ایڈیٹر کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور وہ لیکھرام کی کتاب نہ پڑھ سکا۔جس نے اسلام کو گالیاں اس لئے دیں کہ مرزا نے اسے گالیاں دلوائیں۔وہ کیا تحقیق ہے ؟ستیارتھ کا چودہواں سملاس کیا براہین احمدیہ کے بعد کا لکھا ہوا ہے اور وہ آخری باب کیا گالیاں کا مجموعہ نہیںاور کیا میزان فنڈر کی آئینہ کمالات اسلام سے پیچھے تصنیف ہوئی۔ہمیں تو حیرت ہے ایسی تحقیقات پر۔انصاف !!! بہرحال ہم مہار شی دیانند جی کے چند اصول کی طرف سماج کو توجہ دلاتے ہیں جو قابل قدر اصول ہیں۔وہ بہومکا اور ستیارتھ میں جا بجا ارقام فرماتے ہیں کہ وید میں جو الفاظ آئے ہیں ان کے بہت معانی ہوا کرتے ہیں۔مناسب معنے جو پرمیشور کی عظمت و جلال، علیم کل، محیط کل کی شان کے موافق ہوں، مخالف نہ ہوں وہ لینے چاہئے اور اس کا نام انہوں نے شلیشا اَلَنْکَار رکھا ہے۔پھر استعارہ وغیرہ صنائع کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ روپا اَلَنْکَار ہے۔پھر ارشاد کیا ہے کہ معانی کے سمجھنے کے لئے مراقبوں (سمادہیوں) مہنتوں کی ضرورت ہے ،منتر سکنتاؤں پر جن رشیوں کے نام ہیں وہ بڑے محنتی مفسر ویدوںکے تھے۔پھر اور اصول دیانند جی کے یہ ہیں۔جو مذہب دوسرے مذہبوں کو کہ جن کے ہزاروں کروڑوں آدمی معتقد ہوں جھوٹا بتلاوے اور اپنے کو سچا ظاہر کرے اس سے بڑھ کر جھوٹا اور مذہب کون ہو سکتا ہے ؟ستیارتھ ۱۴سملاس صفحہ ۶۹۷فقرہ ۷۳میںیہ لکھا ہے اور اہنسا کے معنے کئے ہیں۔اہنسا کا لفظ یوگ درشن کے سادہن پاد کے سوتر ۳۰میں یم کے بیان میں آیا ہے۔مہارشی دیاس نے جو یوگ شاستر کے بھاشیہ کار ہیں۔اس کا ارتھ یہ کیا ہے کہ ہر حالت میں ہمیشہ ہر ایک جاندار کے ساتھ دشمنی کے خیال کودور کرنا اہنسا کہلاتے ہیں۔دیانند اپدیش مَنْجَرِی تیسرا ویاکھیان اور کہا ہے انسان کو مناسب ہے کہ شیریں کلامی کو کام میں لاوے۔تیسرا ویاکھیان اور کہا ہے ہر ایک آدمی