نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 2
دھوکہ بازیوں سے بچانے والا ہے کہ اپنے اس دیباچہ کو ان چند ضروری فقروں پر ختم کردیں۔فقرہ اوّل: اسلام کا اصلی سر چشمہ اور اس کا حقیقی منبع اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جس کا نام السلام ۱؎ ہے۔قرآن کریم میں اس مبارک نام کا مبارک ذکر اس کلمہ طیبہ میں آیاہے: (الحشر:۲۴) یعنی وہی اللہ ہے کوئی معبود اور کاملہ صفات سے موصوف اس کے سوا نہیں۔وہ حقیقی بادشاہ ہر ایک نقص سے منزہ و بے عیب و سلامت ہے۔اور اسلام کا حقیقی ثمرہ دارالسلام ہے جس کا آسمان و زمین اور درودیواراور جس کے تمام یار غمگسار طیب ہوں گے اور ان کے میل جول میں سلامتی وسلام ہی ہو گاجیسے فرمایا: (یونس:۱۱) اسی طرح الاسلام کے ظہور کے لئے دو شہر مقدر تھے۔ایک ام القرٰی مکہ جس کے لئے ایسی ایک پیشگوئی ہے کہ اگر سوفسطائی اور دہریہ بھی اس پر منصفانہ نظر کرے تو اللہ تعالیٰ کی ہستی کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کا بھی دل سے قائل ہو جاوے۔اس مختصر تمہید میں ہم صرف دو آیتوںکا ذکر کرتے ہیں۔مکہ معظمہ تیسرا مظہر اسلام کا اس دنیا میں ہے اوراس مکہ معظمہ کی نسبت یہ ارشاد ہیں۔اول:(پھر ان آیات بینات کا بیان کیا ہے جیسے فرمایا) ؎ اس سے ہمارا یہ مقصد ہے کہ اسلام کے لفظ میں خدائے علیم کی طرف سے پیشگوئی مرکوز ہے کہ اسلام اور اس کے تمام متعلقات ابد تک سلامتی اور حفاظت سے رہیںگے۔جیسا کہ اس کے چشمہ یعنی اللہ تعالیٰ کا نام السلام ہے۔اس لئے یہ نام اور یہ فخر اور کسی مذہب کو نہیں ملا۔منہ