نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 148 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 148

سوال نمبر۳۲۔چاند سورج سے جا ملے گا۔الجواب۔جس آیت کا حوالہ دیاہے اس میں تو ہے  (القیامۃ:۱۰) اس کے یہ معنے ہرگز نہیں کہ چاند سورج سے جا ملے گا اس کے تومعنے ہیں کہ چاند اور سورج جمع کئے جائیں گے۔اور جو تم نے ترجمہ کیا ہے اس کے خلاف قرآن مجید میں یہ لکھاہے اور تمہاری تردید کی ہے۔(یٰسٓ :۴۱)سورج کو طاقت نہیں کہ چاند کو دبوچ لے یا اس سے جا ملے اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے بلکہ یہ سب کے سب اپنے اپنے فلک میں تیرتے ہیں۔اور فرمایا ہے۔(یٰسٓ :۴۰) اور چاند کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کر دیں یہاں تک کہ آخرکاروہ چاند پرانی ٹہنی کی طرح ہو جاتاہے۔اور فرمایا ہے۔(الرّحمٰن :۶) اور سورج اور چاند اپنے اپنے محوروں پر چکر کھاتے ہیں۔پس دونوں یوں توجمع نہیں ہوتے جیسے تم نے غلطی سے وہم کیا ہے۔بلکہ ان کا اجتماع بعض صفات میں ہوتاہے مثلاً دونوں کا گرہن ایک مہینہ میں ہوجاوے جیسے چاند گرہن کے لئے تین تاریخیں جناب الٰہی نے مقرر کر دی ہیں۔تیرہ چودہ اور پندرہ قمری مہینہ کی تاریخیں اور سورج گرہن کے لئے بھی سنن الٰہیہ میں تاریخیں مقرر ہیں۔۲۷،۲۸،۲۹۔ستائیس اٹھائیس اور انتیس چاند کی تاریخیں سنن الٰہیہ میں مقرر ہیں ان کے خلاف نہیں ہوا اور نہ ہوگا۔اب جمع کی صورتیں تو بہت ہیں۔ان میں سے جو اس زمانہ میں آیات اللہ کی طرح جو صورت واقع ہوئی ہے وہ یہ صورت ہے کہ ہماری کتب میں لکھاہوا ہے کہ مہدی کے زمانہ میں چاند گرہن پہلی رمضان میں اور سورج گرہن