نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 123 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 123

سوال سوم۔اگر قرآن کریم نے آٹھ کا ذکر کیا ہے تو وہاں فرشتوں کا تذکرہ نہیں مگر آپ کے ہاں صاف مسلم ہے کہ آٹھ دیوتا اس کے تخت سلطنت کو اٹھا رہے ہیں۔دیکھو ستیارتھ پرکاش صفحہ ۴۴میں ہے کہ یا گولکیہ جی نے شاکلیئہ کو فرمایا ہے۔آٹھ وسو یہ ہیں۔پھر ان کی تفصیل کرتے کہا ہے کہ ان سب کو وسو ا س لئے کہتے ہیں کہ ان میں یہ گنج کائنات محفوظ اور قائم ہے۔یاگولکیہ کے معتقدو! انسانی بات کو ماننا اور خدائے پاک کی بات کو نہ ماننا کیسی بے انصافی ہے؟ اور حقیقی بات سناتے ہیں۔سنو! مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ عرش کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے جس پر خدا بیٹھا ہواہے۔تمام قرآن شریف کو اول سے آخر تک پڑھو اس میں ہرگز نہیں پاؤ گے کہ عرش کوئی چیز محدود اور مخلوق ہے۔خدا نے باربار قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ ہر ایک چیز جو کوئی وجود رکھتی ہے اس کا میں ہی پیدا کرنے والا ہوں۔میں ہی زمین و آسمان اور روحوں اور ان کی تمام قوتوں کا خالق ہوں۔میں اپنی ذات میں آپ قائم ہوں اور ہر ایک چیز میرے ساتھ قائم ہے ہر ایک ذرہ اور ہر ایک چیزجو موجود ہے وہ میری ہی پیدائش ہے مگر کہیں نہیں فرمایا کہ عرش بھی کوئی جسمانی چیز ہے جس کامیں پیداکرنے والا ہوں۔اگر کوئی آریہ قرآن شریف میں سے نکال دے کہ عرش بھی کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے تو میں اس کوقبل اس کے جوقادیان سے باہر جائے ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا۔میں اس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی کاکام ہے کہ میں قرآن شریف کی وہ آیت دکھاتے ہی ہزار روپیہ حوالہ کر دوں گا۔ورنہ میں بڑے زورسے کہتا ہوں کہ ایسا شخص خود لعنت کا محل ہو گا جو خدا پر جھوٹ بولتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اس اعتراض کی بنیاد تو محض اس بات پر ہے کہ عرش کوئی علیحدہ چیزہے جس پر خدا بیٹھاہوا ہے اور جب یہ امر ثابت نہ ہو سکا تو کچھ اعتراض نہ رہا۔خدا صاف فرماتا ہے کہ وہ زمین پر بھی ہے اور آسمانوں پر بھی ہے اور کسی چیز پر نہیں بلکہ اپنے وجود سے آپ قائم ہے اور ہر ایک چیز کو اٹھائے ہوئے ہے اور ہر ایک چیز پر محیط ہے۔جہان تین ہوں تو چوتھا ان کا خدا ہے جہاں پانچ ہوں تو چھٹا ان کے ساتھ خدا ہے اور کوئی جگہ نہیں جہاں خدا نہیں۔