نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 112 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 112

ای تسرع بہ وتخف۱۲ فتح ۱؎۔ہلکا سمجھنے جلدی قتل کرنے اچانک مرنے کو ہزو کہتے ہیں۔پس(البقرۃ:۱۶)کے معنے ہوئے اللہ تحقیر کرے گا اہانت کر ے گا اور ان کو عیوب و نقائص سے خلقت کو ایسی آگہی دے گا کہ ان کی ہنسی ہو اور اللہ تعالیٰ ان کو خفیف کرے گا۔جلدی ہلاک کر دے گا۔یہ بیان ہے منافقوں کے حالات کا جن کاظاہر کچھ اور باطن کچھ ہوتاہے۔دل میں کپٹ ہوتی ہے اور ظاہر میں ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔مومنوں کی تحقیر واہانت اور تخفیف کرتے ہیں۔آخر اللہ تعالیٰ ان کی تحقیر۔اہانت اور تخفیف کرتاہے اور کرتا رہے گا اور ہلاک کر دے گااور ان کے عیوب ونقائص کی اطلاع دیتاہے اور دیتا رہے گا اس لئے کہ دنیا میں ان کی ہنسی ہو۔یہ بڑی بھاری پیشگوئی ہے اور وہ روز روشن کی طرح پوری ہوئی کہ تمام وہ لوگ جو اسلام پر ہنسی اڑاتے اوراس کی تحقیر کرتے تھے خدا تعالیٰ نے انہیں ضعیف وحقیر کر دیا۔صداقتوں اور واقعات حقہ پر اعتراض کرنا سخت ناپاکی اور جہالت نہیں تو کیا ہے؟ اور سنو!دیانند نے ستیارتھ پرکاش میں کیا قواعد قرار دئیے ہیں۔کیا تمہارا فرض نہیں کہ اعتراض سے پہلے ان قواعد کو آنکھ کے سامنے رکھ لیا کرو چنانچہ دیانند لکھتاہے۔’’پس جس جس موقع پر ہمہ دانی وغیرہ کے اوصاف پائے جاویں اس موقع پر پرماتما اور جہاں خواہش۔نفرت۔جدوجہد۔راحت۔رنج اور ناقص العلم وغیرہ کے اوصاف ہوں وہاں جیو (روح) کے معنے لئے جاتے ہیں ایسا ہی ہر جگھ سمجھنا چاہیے‘‘ صفحہ ۶۔مثلاً کسی نے کسی سے کہا … یعنی اے نوکر تو’’ سیندھو‘‘ لے آتو اس کو وقت اور فحوائے کلام کا خیال رکھنا ضروری ہے کیونکہ’’ سیند ھو‘‘۔دو چیزوں کا نام ہے ایک گھوڑے کا دوسرا نمک کا۔اگر مالک کی روانگی (سیر وغیرہ)کا وقت ہو تو گھوڑا اور اگر کھانے کا وقت ہو تو نمک لانا واجب ہے لیکن اگر سیرکے وقت نمک اور کھانے کے وقت گھوڑا لائے تو اس کا مالک اس پر خفا ہو کر کہے گا