نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 94
کہا کہ آخر تم نے مرنا ہے۔پھر ان کی نافہمی کا اظہار فرمایا ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں اگر ان کو سکھ پہنچے تو بول اٹھتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے یہاں سے مل گیا اور اگر انہیں دکھ پہنچے تو پکار اٹھتے ہیں کہ یہ دکھ تیرے (نبی کریم سے)سبب سے پہنچا تو کہہ دے کہ دکھ اور سکھ تو اللہ تعالیٰ سے پہنچتا ہے۔یہ نادان بات کی تہہ کو نہیں پہنچتے۔پھر فرمایا ہر ایک قسم کا سکھ اللہ تعالیٰ سے تجھے ملا ہے اور جو دکھ تجھے پہنچاہے تیرے اپنے ہی طرف سے پہنچا اور تجھے ہم نے لوگوں کے لئے رسول بھیجا ہے۔اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سکھوں اور دکھوں کا دینے والا حقیقت میں تواللہ تعالیٰ ہے اس لئے کہ اصل خالق اور پیدا کرنے والا اسباب رنج و راحت کا وہی ہے اور یہی نہایت سچی بات ہے کہ سکھ سب اللہ تعالیٰ ہی کے عنایت سے ملتے ہیں اور دکھ تمہارے ا پنے ہی سبب سے تم پر آتے ہیں۔اب ہم آریہ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا آپ کے یہاں مسلم نہیں کہ دکھ خود انسان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ اور ثمرہ ہوا کرتا ہے اور کیا آپ کو یہ مسلم نہیں کہ سکھوں دکھوں کو دینے والا پرماتما اللہ رب العالمین ہے؟ ہاں مسلم ہے۔پس تمہارا اسلام پر اعتراض کرنا کیا دانستہ حق کی مخالفت کرنا اور جھوٹ کو پالنا نہیں؟البتہ اس قدر بھی اس آیت سے نکل سکتا ہے کہ سکھ ابتدائً بھی جناب الٰہی سے آسکتے ہیں اور یہ امر آپ کا مسلم نہیں۔مگر اس بات پر آپ نے سوال نہیں اٹھایا شاید کہیں آگے آجاوے اور ہمارے یہاں مسلم ہے کیونکہ اس کی صفت رحمان ہے۔البتہ یہ نئی بات ہے اور سچا اور واقعی سائنس ہے جو اس آیت سے نکلتی ہے تمام سکھ ابتداً بھی جناب الٰہی کی طر ف سے آتے ہیں۔حقیقی چشمہ ان کا وہی اور خلق اشیاء و اسباب اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے مگر یہ سچا اور روحانی علم بجائے خود ایک مستقل مضمون چاہتا ہے اور چونکہ تارک نے اس پر سوال نہیں اٹھایا ہم اسے چھیڑنا پسند نہیں کرتے۔تقدیر۔تدبیر اور امتحان تو سب سچے مسالہ ہیں اور مطابق واقع ہیں اور تمام نظام عالم اور انسانی افعال واعمال میں نظر آرہے ہیں انہیں ڈھکوسلا کہنا اپنی عقل مندی کا ثبوت دینا ہے۔