نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 78
ان کی تفصیل ایک مجلد چاہتی ہے مگر اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے اور وحدت کو پسند فرماتا ہے۔وحدت ہی پر بڑے بڑے انعام مرتب فرماتا ہے۔مسلمانوں کو اس نے اوّل تو ارشاد فرمایا ہے جو قرآن کریم میں ہے۔ (آل عمران:۱۰۴) ترجمہ۔الٰہی رسن(قرآن)کے ساتھ اکٹھے ہو کر اپنا بچاؤ کرو اور الگ الگ نہ ہونا۔اس آیت کریمہ میں ایک حکم ہے کہ ایسا کرو اور دوسری نہی ہے کہ ایسا نہ کرو۔امر وحکم میں ارشادہے کہ ایک ہو جاؤ۔پس شخصی وحدت تو یہ تھی کہ ہر ایک انسان کا دل و زبان اور اس کے تمام اعضاء میںباہم وحدت ہو۔ایسا نہ ہو کہ دل میں کچھ ہے اور زبان پر کچھ اور آنکھ کچھ اشارہ کرتی ہے اور اعضاء کچھ اور کہتے ہیں اور قومی وحدت یہ تھی کہ باہم ایسے تنازع نہ ہوتے۔امانت جسے رعایاکہتے ہیں۔عام تکلیف نہ پہنچتی بلکہ اس امانت الٰہیہ کو ہر طرح آرام وراحت ملتی اور خود غرضی اور لالچ دینا جو راس کل خطیئۃ ہے۔پھوٹ کا موجب نہ ہوتا مگر اس اسلامی حکم پر عمل درآمد نہ ہوا توحسب فرمان الٰہی جو قرآن میں ہے۔(الانفال :۴۷) اس کا معنی ہے اور آپس میں تنازع مت کرو اگر کرو گے تو پھسل جاؤ گے اور تمہاری ہوا (قوت۔طاقت۔رعب۔نفاذ حکم)بگڑ جائے گی۔سو حکم کی خلاف ورزی کا صحیح نتیجہ نکلا۔نہی کا منشاء تھاکہ باہم پھوٹ نہ کرنا۔پس جب نہی کی خلاف ورزی ہوئی۔اس کا ثمرہ ملا۔اب بھی بعض ریاستیں صرف اس لئے قائم ہیںکہ برباد شدہ ریاستوں کی وجوہ بربادگی بیان کریں مگر اسلامی یک جہتی۔وحدت کتاب۔وحدت کلمہ۔وحدت اعمال ضروریہ اور ظہور امام واحد یقین دلاتا ہے کہ بہار کے دن ہیں ۔کیا روز افزوں ترقی کو ہر روزہم نہیں دیکھتے۔دیکھتے ہیں اور آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے ہیں کہ اسلام کا انجام بخیر ہے۔نور الدین