نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 62
ترجمہ: عورتوں سے پسندیدہ معاشرت رکھو۔پس اگر تمہیں ناپسند ہوںتو قریب ہے کہ اگر کوئی بات تم کو مکروہ لگے تواللہ تعالیٰ اس میں بہت بہتری رکھ دے۔اور وہ آیا ت جن میں ہے۔(البقرۃ :۲۳۲)ترجمہ۔عورتوں کو دکھ دینے کے لئے مت روک رکھو اور جس میں ہے َ (الطلاق :۷) ترجمہ: ان کو ضرر مت دو۔اور جو کچھ آریہ سماج کی معتبر کتابوں میں ہے وہ یہ ہے جو اوپر دکھا آئے ہیں۔عورتوںکے حقوق پر ایک مختصر نوٹ:۔نکاح کے فوائد دو قسم کے ہوتے ہیں۔اول شخصی منافع۔دوم نوعی مقاصد۔شخصی منافع میں مثلاً حفظ صحت۱ بعض بیماریوں میں۔آر۲ام یاروغمگسار کے ساتھ ہونے کا۔قوائے۳ شہوانی کے اقتضا کا طرفین سے بلامزاحمت پورا ہونا۔ان قوائے۴ انسانیہ کا نشوونما جن کے باعث انسان دوسرے سے تعلق پیدا کرتا یا کسی کا لحاظ کرتاہے۔حلم و ۵مروّت و بردباری کا اسی مدرسہ میں سبق حاصل ہوتا ہے۔امورخانہ ۶داری کی اصلاح۔حفظ ننگ۷ و ناموس وحفظ مال وا۸سباب۔نوعی مقاصد مثلاً حفظ نوع۔تربیت اولاد۔کیونکہ بے تحقیق نطفوں کی علی العموم خبرگیری نہیں ہواکرتی۔روسی شاہی خانہ زاد اول توخصوصیت سلطنت کے باعث مستثنیٰ ہیں۔پھر سوائے جنگی کاموں کی کیا تربیت پاتے ہیں۔اس لئے شادی کا حکم اول تو جسمی طاقت اور مالی وسعت پر صادر ہوا ہے۔قرآن کریم میں آیاہے۔(النّور :۳۴)اور فرمایا : (الروم :۲۲) اور فرمایا :(البقرۃ :۲۲۴) پس عورت طلاق لے سکتی ہے۔(۱)اگر مرد اس کی نفسانی ضرورتوں کو پورا نہ کر سکے۔(۲)قابل