نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 58 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 58

اس کا حصہ دار تخم والا اور کھیت والا دونوں ہوتے ہیں‘‘۔۵۳’’ تخم ہوا سے اڑ کر جس کے کھیت میں پڑا اس کا پھل کھیت والا ہی پاتاہے۔صاحب تخم نہیں پاتا‘‘۔۵۴ نیوگ:۔’’اولاد کے نہ ہونے میں سسر وغیرہ کے حکم کو پاکر عورت سپنڈ سے یا دیور سے اولاد دلخواہ حاصل کرے۔والدکا حکم پاکر بدن میں گھی لگا کر خاموش ہوکر بیوہ عورت میں لڑکا پیداکرے سوائے ایک لڑکے کے دوسرا لڑکا کبھی نہ پیداکرے‘‘۔۵۹۔۶۰۔نکاح ثانی:’’شراب پینے والی اور سادھوؤں کی سیوا نہ کرنے والی اور دشمنی کرنے والی اور بیماریوںسے بھری ہوئی اور گھات کرنے والی اور ہر روزدولت کونیست ونابود کرنے والی عورت ہو تو دوسرا وواہ کرنا چاہیے‘‘۔۸ ’’بانجھ عورت اور جس کی اولاد نہ جیتی ہو اور جو صرف دختر ہی پیداکرتی ہو۔ایسی عورت ہونے پر حسب سلسلہ آٹھویں دشویں گیارہویں سال دوسرا وواہ کرنا چاہیے‘‘۔۸۱ ’’جو عورت مریض ہو لیکن خیر خواہ اور بامروت ہو تو اس کی اجازت سے دوسرا وواہ کرنا چاہیے مگر اس کی بے قدری ہرگز نہ کرنا چاہیے‘‘۔۸۲’’جس عورت کے اوپر دوسرا وواہ شوہرنے کیا اور وہ عورت غصہ ہو کر گھر سے نکل جاتی ہو تو اس کو روک کر گھر میں رکھنا خواہ خاندان کے روبرو ترک کرنا چاہیے‘‘۔۸۳’’کشتری وغیرہ کی زو جہ شوہر وغیرہ سے محفوظ ہو اور شادی وغیرہ کاموں میں بھی ممنوع شراب کو پیوے یا ناچ رنگ کے جلسہ عام میں چلی جائے تو چھ رتی سونا ڈنڈ دیوے‘‘۔۸۴’’ایک آدمی کی پانچ زو جہ ہوں ان سب میں ایک یُتر وان ہو تو اس کے ہونے سے سب زوجہ پتروان کہلاتی ہیں اس بات کو منوجی نے کہا ہے‘‘۔۱۸۳’’بیٹاکے وسیلہ سے اندر لوک وغیرہ کو فتح کرتا ہے اور پوتا کے وسیلہ سے بے انتہا پھل کو پاتا ہے اور پوتا کے بیٹے کے وسیلہ سے سورج لوک کو پاتا ہے‘‘۔۱۳۷’’پُت نام دوزخ کا ہے۔اُتر بمعنے محافظ کے ہیں۔چونکہ بیٹا باپ کو دوزخ سے بچاتا ہے اس سبب سے پُتّر کہاتا ہے۔اس بات کو شری برہماجی کہا ہے‘‘۔۱۳۸’’جس آدمی کا تخم بیماری وغیرہ سے فانی ہو گیا ہے اس کی عورت میں لاولد دیور نے والد وغیرہ کے حکم سے بیٹا پیدا کیا اور پھر کیا خوب ۲۔بیماری کی وجہ ۳۔نکاح ثانی