نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 33
(الرعد :۱۷) ان آیات میں بتایا ہے کہ تمام بلندیوں ،پستیوں، اندھیروں، نور اور سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔دوم ۲سوال یہ ہے کہ اس مخلوق کو کیوں بنایا ہے اور ان آیتوں میں اس کا جواب دیا ہے۔اوّل غایت بعض خلق کی بیان فرمائی ہے جیسے فرمایا :(الذاریات :۵۷) جن وانس کی پیدائش اس لئے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کریں اور پھر بتایا کہ اللہ تعالیٰ صفات کاملہ رکھتاہے۔جن میں سے مثلاً اس کی ربوبیت، رحمانیت، رحیمیت اور مالکیت ہے۔اگر وہ پیدا نہ کرتا تو اس کی صفات باطل ہوتے اور خدا معطل و بیکار ہوتا۔مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ محامد کاملہ سے موصوف ہے اور صفات کاملہ کا مقتضا ہے کہ وہ موثر ہوں مثلاً فرمایا:۔کیا معنی؟ اللہ تعالیٰ میں یہ صفات ہیں پس جب اس میں یہ صفات ہیں اور اللہ تعالیٰ سوتا یا اونگھتا نہیں تو اگر خلق پیدا نہ کرے تو اس کے لئے حمد۔ربوبیت۔رحمانیت۔رحیمیت۔مالکیت کیونکر ثابت ہو؟ کیا آنکھ ہو اور دیکھے نہیں اور کان ہوں اور سنے نہیں۔سوم۳ سوال۔کب بنایا؟اس کا جواب نہیں دیا کیونکہ زمانہ مقدار فعل کا نام ہے اور مقدارِ فعل فعل سے پیدا ہوتا ہے اور فعل فاعل سے تو زمانہ خود مخلوق ہوا۔ہاں یہ بتایا کہ ھوالاول۔اس کے معنے نبی کریم نے فرمائے ہیں : لَیْسَ قَبْلَہٗ شَییْئٌ اور فرمایا اِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَھٰی۔پس پاک اور حق و حکمت پر مشتمل کتاب اگر پیدا کرنے کا زمانہ بتاتی تو ثابت ہوتا کہ اللہ اس وقت سے معطل و بیکار تھا حالانکہ یہ بات غلط ہے۔چو۴تھا سوال۔کس سے بنایا؟یہ لفظ گول مول تھا اس لئے اس میں اکثر لوگوں نے دھوکہ کھایا ہے۔کس سے کا مطلب مادہ بھی ہوتا ہے اور صفات کاملہ والا فاعل و خالق بھی۔چونکہ حسب تعلیم قرآن مادہ عالم کا بھی خالق اللہ ہی ہے۔اس لئے کس سے سوال کا جواب دیا ہے کہ اللہ قادر، الغنی