نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 329
پتہ ان سے لگایا ہے اور شاہ ولی اﷲنے غیب غیر متعیّن کو متعیّن اِس عالم میں مانا ہے اور مبرد اور دیگر محققین، فراء و قطرب و شیخ الاسلام الامام العلّامہ ابوالعباس۔ابن تیمیہ اور الشیخ الحافظ المجتہد ابوالحجاج المزی اور زمخشری کا قول ہے کہ یہ منکروں کو ملزم کرنے کے لئے بھی بیان کئے گئے ہیں مثلاً مخالفوں کو تحدّی سے کہا گیا کہ الف حرف ہے جو گلے سے نکلتا ہے اور لام درمیانی مخارج سے اور میم آخری مخرج ہونٹ سے ہے۔پس جبکہ ان معمولی لفظوں سے قرآن کریم بنا ہوا ہے تو تم اس کی مثل کیوں نہیں بنا سکتے؟ اب ہم تینوں الزامی اور تینوں نقلی جوابوں سے فارغ ہو کر عقلی جواب دیتے ہیں۔ناظرین ! کیا معجزہ قرآنی نہیں کہ مقطّعات قرآن کریم پر مخالفان اسلام کا اعتراض ہو اور تمام دنیا کے مخالفان اسلام اسلامیوں سے بڑھ چڑھ کر ان حروفِ مقطّعہ کے استعمال میں مبتلا دکھائے جائیں اور ہم نے تو صحابہ کرامؓ کے اقوال سے ان کے معانی کو ثابت کیا ہے مگر معترض لوگ اَ۔اُ۔م کے معنی ملہمان وید کے صحابہ سے بتائیں تو سہی۔دو اَرب برس کی تصنیف کتاب کونسی ہے جس میں یہ معانی لکھے ہوئے ہیں جو سندھیا دہی بلکہ ستیارتھ کے پہلے ہی صفحے میں لکھے ہیں اور پھر جب اسلام کی کتب میں یہ معانی موجود ہیں تو ان پر اعتراض کیوں ہے اور اِس طرح اختصار سے کلام کرنا تو عربی علوم میں عام مروّج ہے بلکہ اس کے علاوہ کئی طریق سے اختصار کیا جاتا ہے۔مثلاً بَسْمَلَ۔حَمْدَلَ۔حَوْتَلَ۔رَجَّعَ۔ھَلَّلَ اورمثلاً خود قرآن کریم کے آیات کے نشان پر ط مطلق اور ج جائز۔ص صلی کا اختصار ہے اور قرآنوں کے اُوپر ع رکوع کا چنانچہ ع اِس طرح کے نشانوں میں اُوپر کا نشان پارہ کا یا سورۃ کا اور اُوپر والا اگر پارہ کا نشان ہے تو نیچے والا سورۃ کا اور اگر اُوپر والا سورۃ کا ہے تو نیچے والا پارہ کا۔درمیانی ہندسہ آیات رکوع کا نشان ہے۔علمِ قراء ت میں فمی بشوق کے مقطّعات سات منازل قراء ت کا نشان ہے۔