نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 321 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 321

صحیح ہے کہ مثل کی کوئی قید نہیں کی مطلق مثل قرآن کریم طلب کی گئی تھی اور مخالف نہ لاسکے۔سوال نمبر ۱۱۵۔(النساء :۸۳) پر اعتراض کیا ہے۔چھ دن میں آسمان و زمین بنائے۔ماں باپ سے انسانی نطفہ کی پیدائش۔پھر ا ٓدم و مسیح کی پیدائش۔سونٹے کا سانپ۔پتھر سے اونٹنی۔خدا مکار۔فریبی۔ان باتوں پر اعتراض کیا ہے۔الجواب:چھ دن کا جواب دیکھو سوال نمبر۱۵، صفحہ۱۱۹،۱۲۰ میں اور ستیارتھ ۲۹۰میں انسانی پیدائش کو دوطرح بتایا ہے۔ایک کو ایشری سرشٹی کہا ہے الٰہی پیدائش اور اس کو بلانطفہ مانا ہے اور دوسری میتہنی سرشٹی۔کیا معنے جماع سے بال بچہ کا پیدا ہونا۔جب کئی قسم کی پیدائش دیانند کے نزدیک مسلم ہے تو پیدائش آدم اور پیدائش مسیح پر اعتراض ہی کیا رہا۔آدم بلاماں باپ اور مسیح بلا باپ پیدا ہوئے۔اقسام سرشٹی میں یہ بھی ایک سرشٹی ہے۔دیکھو جواب سوال نمبر ۲۲،۲۳اور پتھرسے اونٹنی کا پیداہونا میں نے قرآن وحدیث آثار صحابہ اور اقوال ائمہ اربعہ میں ہرگز نہیں دیکھا۔سانپ کا سوٹا دیکھو جواب نمبر ۴۸صفحہ ۱۹۷۔اور ستیارتھ پرکاش صفحہ ۳۴۳۔اعلیٰ ستوگنیوں کاحال کہ وہ آویکت (لطیف ترین مادہ )کوشکل میں لانے اور پرکرتی (علۃ مادہ)پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔پس معجزات کے ماننے میں تم لوگ کیوں کر انکار کر سکتے ہو؟ (النساء:۸۳) کہ معانی ہیںاگر قرآن جناب الٰہی کی طرف سے نہ ہوتا تو اس میں بڑا اختلاف ہوتا۔بات یہ ہے کہ لمبے چوڑے دعویٰ کرنے والے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔اوّل پاگل:۔اور ظاہر ہے کہ ان کے تمام دعاوی صرف مہمل اورنقش بر آب ہوتے ہیں۔ان کی دشمنی اور دوستی کچھ بھی قابل اعتماد نہیں ہوتی۔قرآن کریم نے نبی کریم کو اس اتہام سے یوں بری کیا۔