نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 15 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 15

قرآن کریم پھر تذلیل اور اہانت کے طور پر ان لوگوں کا حال بیان کرتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے اور بے عقلی کے بدنتائج میں مبتلا ہوتے ہیں جیسے فرمایا:  (المائدۃ : ۵۹) اور جب تم انہیں نماز کو بلاتے ہو اسے حقارت اور کھیل میں اڑاتے ہیں۔اس کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔اور پھر ایک بدقسمت قوم کا ذکر فرماتا ہے:  (الملک : ۱۱) یعنی دوزخی (حسرت سے )کہیں گے اگر ہم سنتے یا عقل سے کام لیتے تو دوزخیوں میں شامل نہ ہوتے۔پھر ایک جگہ مخالفان اسلام کے نفاق اور غلط کاریوں کے اسباب میںیوں بیان فرماتا ہے:َ(الحشر:۱۵) یعنی تم خیال کرتے ہو کہ ان کے جتھے اور جمعیّتیں ہیں حال یہ ہے کہ ان کے دل الگ الگ ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔اور قرآنی تعلیم وحشیانہ ہے کا جواب قرآن نے یہ دیا ہے: (التوبۃ : ۹۷) گنوار کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں اور اس لائق ہیںکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کی حدود کا علم نہ آسکے۔سوچو اور غور کرو ! وحشیانہ تعلیم ایسا فقرہ کیونکر کہہ سکتی اور وحشیوں لاعلموں کو نہایت تحقیر سے عتاب کیوںکرتی ہے؟ قرآنی تعلیم کو ظالمانہ کہنے کا جواب قرآن کریم نے یہ دیا ہے:  (ھود : ۱۹) دیکھ ! اللہ کی لعنت ظالموں پر ہے: (آل عمران : ۶۲) پھر ہم جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔