نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 270
عقل بھی نہیں رکھتا تھا جس قدر تمہاری عقل ہے۔گو وہ گریجوایٹ بی اے نہ تھا کہ وہ ۱۸۴ میں لکھتا ہے جو شخص اتی راتربرت کو پیرایہ مینیہ یگیہ کا جزو ہے پورا کر کے اسنان کرتا ہے اسے تیرتھ کہتے ہیں سوم یگیہ کے موقعہ پر آدھی رات کے قریب یگیہ سے فارغ ہوکر دودھ وغیرہ پینے کو کہتے ہیں۔یہ آدھی رات کو دودھ وغیرہ پینا کیسا ہے؟ قطب شمالی پر وہی کیا جاوے گا جو اب تک کیا جاتا ہے اور قرآن نے ہم کو بتایا کیا تم کو نہیں پڑھایا گیا کہ دو وقت سندھیا کرو تین وقت نہیں۔سندھیا کے لئے رات اور دن کا باہمی ملنا یہ مقرر وقت ہے اس لئے دن اور رات کے ملاپ میں یعنی طلوع اور غروب آفتاب کے وقت پرمیشور کا دھیان اور اگنی ہوتر ضرور کرنا چاہئے۔جو شخص یہ دونوں کام صبح و شام کے وقت نہ کرے اس کو بھلے لوگ سب دو جون کے ناموںسے باہر نکال دیں یعنی اس کو شودر کی مانند سمجھیں۔سوال تین وقت سندھیا کیوں نہیں کرتے؟ جواب تین وقت میں سندہی اتصال نہیں ہوتی۔روشنی اور تاریکی کا ملاپ بھی شام اور صبح دو وقت ہی ہوتا ہے۔سملاس نمبر ۲ نمبر ۶ صفحہ ۱۲۷۔پس عبادت کے دو ہی وقت ہیں اس سے زیادہ نہیں۔اب بتاؤ کہ گرین لینڈ میں یہ قاعدہ وید کا کس طرح چلتا ہے اور کیونکر۔ایک بار مَیں لاہور میں گیا تو وہاں کئی ایک نوجوان میرے پاس آئے اور یہی گرین لینڈ کا سوال پیش کیا اور قریب تھا کہ وہ کہہ دے کہ صاحبِ اسلام کو اس ملک کی آگہی نہ تھی۔مَیں نے اس سے کہا کہ چور کا ہاتھ کاٹنا قرآنی حکم اور اسلام کا عملدرآمد تھا اور ہاتھ کٹے چور مسلمان بھی ہوجاتے اور ہوتے تھے۔نمازیں بھی پڑھتے تھے اور قرآن کریم میں وضو اور تیمم کے وقت دونوں ہاتھوں کا دھونا یا مسح کرنا ضروری تھا۔پر چور ہاتھ کٹے ہاں ہاتھ کا مسئلہ کیوں چھوڑ دیا گیا۔بات یہ ہے کہ عقلمند انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقلمند بنایا ہے۔کیا مناسب نہیں انسان کہیں عقل سے بھی کام لے جہاں ہاتھ ہی نہیں انکا دھونا کیسا اور جہاں ماہ رمضان نہیں وہاں رمضان کے روزے کیا معنی اور بھی بہت قسم کے جواب ہیں مگر تمہارے مذاق کے لئے ایک راہ پر ہمیں چلنا ہے اور چونکہ تم