نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 268 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 268

(الملک :۶)ہم ہی نے مزین کیا اس ورلے آسمان کو روشن چراغوں سے اور کردیا ہم نے انہیں مار شیاطین کے لئے اور تیار کردیا ہم نے ان کے لئے جلنے کا عذاب۔۴۔(الجن :۱۰) تحقیق ہم بیٹھتے تھے بیٹھنے کی جگہوںمیں سننے کے لئے۔پس اب اگر کوئی بات سننا چاہے پاتا ہے اپنے لئے شہاب انتظار میں۔تم ہندیوں اور عام یورپ والوں سے تو طائف کے عرب نمبردار ہی اچھے نکلے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ نبی کریم کے عہد ۶۱۰ء سعادت مہد میں مٹی ارز غیر معمولی بکثرت نظر آئے تو عام طور پر لوگوں نے خیال کیا کہ آسمان تباہ ہو چلا۔اس لئے لگے اپنی مویشیوں کو ذبح کرنے۔تب ا ن کے نمبردار عبد یا لیل نے کہا کہ اگر وہ ستارے نظر آتے ہیں جن سے تم لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہو تو جہان خراب نہیں ہو گا۔یہ ابن ابی کبشہ (ہمارے نبی کریم کی طرف اشارہ کرتا ہے)کے ظہور کا نشان ہے۔ابن کثیر میںہے انالمسنا السماء کے نیچے ہی ابن جریر کہتاہے اس آیت کے نیچے کہ آسمان کی حفاظت دوباتوں کے وقت ہوتی ہے یا عذاب کے وقت یا ارادہ الٰہی ہوکہ زمین پر اچانک عذاب آجاوے یا کسی مصلح راہ نما نبی کے وقت اور یہی معنے ہیں اس آیت شریفہ کے۔(الجن :۱۱) یعنی ستاروں کے گرنے کو دیکھ کر وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ آیا زمین والوں کے لئے تباہی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے انہیں کوئی فائدہ پہنچانا ہے۔خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ مصلح کے تولد، ظہور اور اس کی فتح مندی پر حزب الرحمن اور حزب الشیطان کی جنگ پہلے اوپر ہوتی ہے پھر زمین پر۔آیت کریمہ (النازعات : ۶)(الذاریات :۵)(الطارق :۵) کے نیچے حضرت شاہ عبد العزیز صاحب نے مفصل لکھا ہے کہ فرشتے بروج پر اثر ڈالتے ہیں اور