نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 261
میٹی ارک آیرن۔اس قسم کا ایک ٹکڑا ۱۶۳۵ پونڈ وزنی بیل کالج میوزیم میںموجود ہے۔قریباً اتنے ہی حجم کا ایک ٹکڑا پیرس کے میوزیم میں ہے۔اس سے کسی قدر چھوٹا ٹکڑا شہر واشنگٹن کے نیشنل میوزیم میں ہے اور ا ن سے ایک بہت بڑا ٹکڑابرٹش میوزیم میں ہے۔دوسرا امر یہ ہے کہ ہم اس مذہب کی تحقیق بیان کرتے ہیں جس کو پال نے مذہب اسلام سے اوپر یقین کیا ہے اور بتایا ہے کہ اسلام سے وہ مذہب اچھا ہے اس کی ا ٓ خری تحقیقات کی کتاب مکاشفات کے باب ۱۲میں ہے۔’’ایک بڑا سرخ اژدہا جس کے سات سر اور دس سینگ اور اس کے سروں پر سات تاج تھے ظاہر ہوا اور اس کی دم نے ا ٓسمان کے تہائی ستارے کھینچے اور انہیں زمین پر ڈالا‘‘ اور اسی باب میں ہے پھر آسمان پر لڑائی ہوئی میکائیل اور اس کے فرشتے اژد ہے سے لڑے اور اژدہا اور اس کے فرشتے لڑے۔پھر متی ۲۴باب ۲۹آیت’’ ستارے گریں گے‘‘اور بروج کے متعلق مسیحی کتابوں میں ہے۔دیکھو ایوب ۳۸باب ۳۲آیت۔’’کیا تجھ میں قدرت ہے کہ منطق البروج ایک ایک اس کے موسم پر پیش کرے۔‘‘ اور شہابوںکے بارے ان میں لکھا ہے دیکھو ایوب ۳۸باب۳۶ آیت میں ہے۔یا کس نے شہابوں کو فہمید عطا کی۔اس سے اتنا پتہ لگتا ہے کہ شہابوں کو بھی فہمید ہے پر آگے بیان نہیں کیا کہ کیا فہمید ہے اور اس فہمید سے کیا کام لیتے ہیں؟ اور زبور ۱۰۴میں ہے وہ اپنے فرشتوں کو روحیں بناتاہے اور اپنے خدمت گزاروں کو آگ کا شعلہ۔اب تک ہم نے یہ باتیں بیان کی ہیں کہ می ٹی ارز۔الکاپات۔شہاب ثاقب اور شعلہ ہائے نار آسمان سے گرتے نظر آتے ہیں اور کتب یہود اور مسیحیوں نے بھی نہیں بتایا کہ کیوں گرتے ہیں او ر یہ بات ظاہر ہے کہ یہ فعل الٰہی ہے اس لئے لغو بھی نہیں بلکہ ضرور ہے کہ عادۃ اللہ کے موافق اس میں بڑی حکمتیں ہوں۔اب تیسرا امرجو اس مضمون میں مجھے بیان کرنا ہے یہ ہے کہ الہامی مذاہب قائل ہیں کہ