نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 235
(المومنون:۱۵)کے کلما ت میں فرماتا ہے۔۵۔اس واقعہ کا مختصر بیان کتاب حزقیل میں مو جود ہے اور حزقیل کی کتاب آجکل میسر ہے کیو نکہ بائبل کی جزو قرار دی گئی ہے۔د یکھو حز قیل ۳۷ باب ایک آیت سے ۱۳ تک۔خداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا اور اس نے مجھے خداوند کی روح میں ا ٹھا لیا اور اس وادی میں جو ہڈیوں سے بھر پور تھی مجھے اتار دیا۔اور مجھے ان کے آس پاس چو گرد پھرایا۔اور دیکھ وے وادی کے میدان میں بہت تھیں اور دیکھ وے نہایت سو کھی تھیں اور اس نے مجھے کہا اے آدم زاد کیا یہ ہڈیاں جی سکتی ہیں۔میں نے خواب میں کہا کہ اے خدا وند یہوواہ تو ہی جا نتا ہے پھر اس نے مجھے کہا کہ تو ان ہڈیوں کے اوپر نبوت کراسی نبوت سے وہ (آیت ہوئی ) اور ان سے کہہ اے سو کھی ہڈیو تم خداوند کاکلام سنو۔خداوند یہوواہ ان ہڈیوں کو یوں فرماتا ہے کہ دیکھو تمہارے اندر میں روح داخل کروں گا اور تم جئیوگے اور تم پر نسیں بٹھلائوں گا اور گوشت چڑہا وںگا اور تمہیں چمڑے سے مڑہو ں گا۔اور تم میں روح ڈالوںگا اور تم جیو گے اورجانو گے کہ میں خداوند ہوں سو میںنے حکم کے بموجب نبوت کی اور جب میں نبوت کرتاتھا تو ایک شور ہوا۔اور دیکھ ایک جنبش اور ہڈیاں آپس میں مل گئیں ہر ایک ہڈی اپنی ہڈی سے اور جو میں نے نگاہ کی تو دیکھ نسیںاور گوشت ان پر چڑھ آئے اورچمڑے کی ان پر پوشش ہو گئی۔پر ان میں روح نہ تھی تب اس نے مجھے کہاکہ نبوت کر تو ہواسے نبوت کر اے آدم زاد اور ہو اسے کہہ کہ خداوند یہوواہ یوں کہتاہے کہ اے سانس تو چاروں ہواؤں میں سے آ۔اور ان مقتولوں پر پھونک کہ وے جئیں۔سو میں نے حکم کے بموجب نبوت کی اور اس میں روح آئی اور وے جی اٹھے اور اپنے پاؤں پرکھڑے ہوئے۔ایک نہایت بڑا لشکر۔تب اس نے مجھ سے کہا اے آدم زاد یہ ہڈیاں سارے اسرائیل ہیں دیکھ یہ کہتے ہیں کہ ہماری ہڈیاں سوکھ گئیں اور ہماری امید جاتی رہی ہم تو بالکل فنا ہو گئے۔اس لئے تو نبوت کر اوران سے کہو کہ خداوند یہوواہ یو ںکہتاہے