نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 222
محسنوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں۔وہ ہمارے مومن بندوں سے تھا۔باقی جو کچھ آپ نے لکھا ہے سب کا سب جھوٹ اور افتراء اورمحض لغو ہے اورقرآن اور احادیث صحیحہ میں اس کاذرہ ذکر نہیںاورجس قدر قرآن میں ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔کیوںکہ اس سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم ؑ نے خواب دیکھاکہ وہ بیٹے کو ذبح کرتے ہیںنہ یہ کہ ذبح کر دیا جیسے قرآنی لفظ (الصّافات :۱۰۳) گواہی دیتا ہے اس قابل قدر عرفان سے بھرے ہوئے واقعہ پر اعتراض بجز سیاہ دل کو رباطن حقیقت نا آ شنا کے اور کون کر سکتا ہے؟ سنو! ابرا ہیم علیہ السلام کی عمر اس وقت ننا نو ے برس کی تھی اور اسماعیل اس کے اکلوتے بیٹے کی تیرہ برس کی۔اتنے عمر کے با پ کو آئندہ اور اولاد کی ا مید کہاں اور بیٹے کی ا مید یں اور ا منگیں مر نے کے بعد کہا ں !با پ کا اپنے خواب کے خیال کو ا ظہا ر کر نا اور بیٹے کا یہ کہہ د ینا سچی الٰہی محبت کا نشا ن ہے جس کی قدر بدوں زندہ دل کے کون کر سکتا ہے ؟ اس بات کو ہم قر بانی کے مسئلے میں کسی قدر تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔انسا ئیکلو پیڈیا بر ٹینیکا جلد ۱ ص ۵۵ میں ہے کنعا نیوں میں جو قدیم با شندے فلسطین کے تھے انسانی قربا نی کا رواج تھا۔حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نے جو ان میں ما نے ہو ئے بز رگ اور ذی رعب تھے با ہمہ جا ہ وحشمت بیٹے کی قر با نی پر با ا یں کہ بیٹا بھی را ضی ہو چکا تھا مینڈھا ذ بح کر دیا اور اس طریق سے انسا نی قر با نی کے بجا ئے حیوانی قر با نی قا ئم کر دی اور اب تک گو یا کروڑوں جا نو ں کو بچا لیا با رک اللّٰہ علیک یا ابراہیم۔سوال نمبر ۶۵۔ابراہیم کے لیے آگ سرد ہو ئی۔پھول کھل پڑے۔چشمے جاری ہو گئے۔لٹیمر کر نیمر کے لیے کیوں سرد نہ ہوئی جیسے لکھا ہے (الا نبیاء :۷۰) الجوا ب۔پھول کھلے، چشمے جاری ہوئے، قرآن کر یم میں تو نہیں مگر یہ تو بتا ؤ کہ تمھا رے