نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 217 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 217

آریہ سماج کابانی اس بات کو تسلیم کرتاہے وہ صفحہ ۲۴وید بہاش بہومکا کے دیباچہ مترجم میں لکھا ہے ۳۸شپتتھ براہمن میں لفظ سوم کے سولہ معنی لکھے ہیں پھر اس کا نقشہ دیا ہے۔پس ویدوں میں لفظ سوم کے معنی محل وموقع کے مناسب ان سولہ میںسے کوئی ایک لئے جاویں گے۔جائے غور ہے کہ ویدوں کی قدیم تفسیروں میں سوم کے معنی ایشور۔عالم۔چانداور نباتات وغیرہ کے لکھے ہیں۔اسی طرح ستیارتھ میں ویدوں کی پیدائش پر کہاہے جہاں معنی میں غیر امکان پایا جاتا ہے وہاں لکہشنا ہوتا ہے (لکہشنا کے معنی استعارہ کے ہیں)پر جلد بازی سے کام لینا اور ذرا غوروفکرنہ کرنا کیا شریف عاقبت اندیش ،خداترس اور سعادت مندانسان کاکام ہے؟نہیں ہرگز نہیں۔خلاصہ جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم صاعقہ میں سخت مبتلاہوئی اور امید زیست نہ رہی اور ایک قسم کی موت ان پر طاری ہو گئی تو جناب موسیٰ کی اس قوم پر الٰہی رحم ہوا اور آخر وہ بچ گئی۔سوال نمبر ۵۹۔من وسلوی بنی اسرائیل کے لئے نازل کیا۔الجواب۔سخت محنت کے بغیر جورزق ملتاہے اسکو عربی میں منّ کہتے ہیں اس لئے لکھا کہ الکمأۃ من المن یعنی کھمبی بھی مَنّ سے ہے اور ترنجبین اور اسی کے معنی میں شیر خشت اور تمام جنگل کی اشیاء ان سب کو من میں داخل کیا گیا ہے ایک دفعہ پنجاب میں قحط پڑا تھا بہت بڈھے ابھی تک اس کو جاننے والے موجود ہیں۔اس میں مرکن نام ایک بوٹی بہت پیدا ہوئی تھی اسی پر لوگوں کا گذارہ تھا اسی واسطے اس سال کو مرکن کہتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو جنگل کے درمیان مصیبت کے ایام میں جنگلی اشیاء سے سہارا بخشا اور بھوک کے عذاب سے ہلاک نہ ہونے دیا۔ٓؑسوال نمبر ۶۰:۔(البقرۃ :۵۸ ) پر اعتراض کیا ہے بنی اسرائیل کو دھوپ نے ستایا تو خدا نے ان پر بادل بھیج دیا اور بطور سائبان کام دینے لگا۔الجواب:۔بات توصرف یہ ہے کہ بنی اسرائیل چالیس برس اس ملک میں رہے جو ملک فلسطین اور بحیرہ قلز م کے درمیان ہے انسانی ضرورتیں بغیر پانی کے پوری نہیں ہوسکتیں۔اللہ تعالیٰ نے