نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 212
سوال نمبر۵۷۔معتقد بنانے کو خاص اونٹنی پیدا کی۔الجواب۔قرآن کریم میں تو کہیں نہیں لکھا کہ خاص اونٹنی اس وقت پیدا کر دی۔صرف اتنی بات قرآن میں ہے۔(الاعراف:۷۴)یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشا ن ہے اسے خدا کی زمین میں چرنے چگنے دواور دکھ نہ دو ورنہ سخت عذاب میں گرفتار ہوجاؤگے۔اس بات کے حل کرنے کے لئے خود تمہارے ملک کی رسوم اور عادات بڑی چابی ہیں۔اس ملک میں جہاں جہاںسکھ مالک ونمبردار ہیں وہاں کیا ہوتا ہے ؟کون نہیں جانتا ایک بیل اگر کسی مسلمان کے ہاتھ سے مارا جاوے تو انسانی جسم کی اس ایک حیوان کے بدلہ میں کیا گت بنتی ہے۔تمہارے بازاروں میں بیکار۔نکمے۔مال مردم خوربیل پھرتے ہیں بتاؤ؟کوئی مسلم ان کو چھیڑ سکتاہے اگر اتفاقی بھی چھیڑے تو تم کیسے اس کے گردہوتے ہو۔تم مفتوح۔دبیل۔نرم دلوں کا تو حال یہ ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے جو بادشاہوں کا بادشاہ۔حاکموں کا حاکم ہے کہہ دیا کہ میرے رسول صالح کی سچائی کا یہ نشان ہے کہ اگر اس کی خلاف ورزی کرو گے اور اس اونٹنی کو جو اَب خصوصیت رکھنے والی اونٹنی ہے ستاؤ گے تو ہلاک ہو گے۔عرب کے ملکوں میں دشمنوں پر رعب ڈالنے اور اپنی شوکت کے اظہار کے لئے نہ صرف اونٹ چھوڑے جاتے تھے بلکہ گھوڑے اور دنبے بھی اور قوم کلیب کے جنگوں سے معلوم ہوتاہے کہ کتوں کے بچوں کو بھی اس طرح آزاد کرتے تھے۔ناقہ صالح کی مثال رسومات عرب میں میدانی نے امثال میں لکھا ہے کہ حیرہ کے بادشاہ کسریٰ نے اپنی قوت، سلطنت اور بطش کے باعث عربوں میں بڑا رعب جما یا تھا اس کو مضرط الحجر کہتے تھے اس نے شدید قحط کے زمانہ میں ایک دنبہ کو خوب پالا اور پوسا۔پھر اس کے گلے میں چھری اور چقماق ڈال دیا اور اسے جنگل میں چھوڑ دیا