نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 200 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 200

پراکابھ۔ناکام نہ ہونا۔کامیاب ہونا۔۷۔انشنوم۔الٰہی طاقتیں حاصل کرنا۔۸۔بشتوم۔ہرایک شئے اپنے قابو میں کر لینا۔ان اشٹ سدہیوں کو مدنظر رکھ کرتم اپنے اعتراض نمبر۴۸کے تمام نونمبروں کو سیدھا کر لو اور شرم کرو یا ویدک دہرم چھو ڑکر سائنس دانوں اور فلاسفران یورپ کامذہب اختیار کرو مگر یاد رکھو تمہیں وہاں سے بھی دھتکار ہی ملے گی۔کیونکہ وہاں بھی پہلے مسمریزم نے ان معجزات کی حقانیت کی طرف توجہ دلائی اور اس کے بعد اسپریچولزم نے ثابت کر دیا ہے کہ تمام صداقتیں ہیں جن کا ذکر انبیاء ورسل کی پاک کتابوں میں ہے اور جس کے دکھانے والے انبیاء ورسل کے صادق اتباع ہمیشہ اور اب بھی موجود ہیں۔ساحروں کے سحر یعنی دھوکے بازوں کے ڈھکوسلے جہاں غیر واقعی طور پر اپنا جلوہ دکھاتے ہیں وہاں بڑے مرتاض یوگی جن اور ان سب سے برتر جناب الٰہی سے مؤید ومنصور قوم انبیاء ورسل اوران کے مخلص اتباع کی حقیقت بھرے آیات ومعجزات دھوکے بازوں کے جھوٹ اور افترا کو تباہ کرکے واقعات کا اظہار دنیا پر کردیتے ہیں مگر تم لوگ جو دنیا پرست ہوا ورجن کو کھانے پینے،پہننے اور دیگر اغراض خسیسہ کے سوا اور کوئی مطلوب ومقصود نہیں اس صداقت تک کیونکر پہنچ سکتے ہو۔ایک نہایت لطیف اورضروری نکتہ میں نے اس مضمون کو قبل از نماز عشاء حضرت امام خلیفۃ اللہ مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔آپ نے فرمایا ان اعتراضوں کی اصل ہے معجزات اور خوارق کا انکار۔لوگ اسے ایک مدّمیں ان تمام ہزاروں معجزات کو شامل کرتے ہیں جو ہمارے نبی کریم ﷺ سے ظہور میں آئے اور یہ لوگ اور ان کے دل ودماغ کے نیچری بھی بدقسمتی سے اسی قسم کے اعتراضوں یا وسوسوں میں مبتلا ہیں اور جہاں کسی معجزہ کا ذکرہوا اسے ہنسی اور ٹھٹھے میں اڑا دیا۔اس وقت مناسب یہ ہے کہ ان تمام