نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 187 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 187

دل میں تمہارے یار کی اُلفت نہیں رہی حالت تمہاری جاذب نصرت نہیں رہی حمق آگیا ہے سر میں وہ فطنت نہیں رہی کسل آگیا ہے دل میں جلادت نہیں رہی وہ علم و معرفت وہ فراست نہیں رہی وہ فکر وہ قیاس وہ حکمت نہیں رہی دُنیا و دیں میں کچھ بھی لیاقت نہیں رہی اب تم کو غیر قوموں پہ سبقت نہیں رہی وہ اُنس و شوق و وجد وہ طاعت نہیں رہی ظلمت کی کچھ بھی حدّو نہایت نہیں رہی ہر وقت جھوٹ۔سچ کی تو عادت نہیں رہی نورِ خدا کی کچھ بھی علامت نہیں رہی سو سو ہے گند دل میں طہارت نہیں رہی نیکی کے کام کرنے کی رغبت نہیں رہی خوانِ تہی پڑا ہے وہ نعمت نہیں رہی دیں بھی ہے ایک قشر حقیقت نہیں رہی مولیٰ سے اپنے کچھ بھی محبت نہیں رہی دل مر گئے ہیں نیکی کی قدرت نہیں رہی سب پر یہ اِک بلا ہے کہ وحدت نہیں رہی اِک پُھوٹ پڑ رہی ہے مودّت نہیں رہی تم مر گئے تمہاری وہ عظمت نہیں رہی صورت بگڑ گئی ہے وہ صورت نہیں رہی اب تم میں کیوں وہ سیف کی طاقت نہیں رہی بھید اس میں ہے یہی کہ وہ حاجت نہیں رہی اب کوئی تم پہ جبر نہیں غیر قوم سے کرتی نہیں ہے منع صلوٰۃ اور صوم سے ہاں آپ تم نے چھوڑ دیا دیں کی راہ کو عادت میں اپنے کر لیا فسق و گناہ کو اب زندگی تمہاری تو سب فاسقانہ ہے مومن نہیں ہو تم کہ قدم کافرانہ ہے اے قوم تم پہ یار کی اب وہ نظر نہیں روتے رہو دعائوں میں بھی وہ اثر نہیں کیونکر ہو وہ نظر کہ تمہارے وہ دل نہیں شیطاں کے ہیں خدا کے پیارے وہ دل نہیں تقویٰ کے جامے جتنے تھے سب چاک ہو گئے جتنے خیال دل میں تھے ناپاک ہو گئے کچھ کچھ جو نیک مرد تھے وہ خاک ہو گئے باقی جو تھے وہ ظالم و سفّاک ہو گئے اب تم تو خود ہی موردِ خشمِ خدا ہوئے اُس یار سے بشامتِ عصیاں جدا ہوئے