نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 188 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 188

اب غیروں سے لڑائی کے معنے ہی کیا ہوئے تم خود ہی غیر بن کے محلِ سزا ہوئے سچ سچ کہو کہ تم میں امانت ہے اب کہاں وہ صدق اور وہ دین و دیانت ہے اب کہاں پھر جبکہ تم میں خود ہی وہ ایماں نہیں رہا وہ نور مومنانہ وہ عرفاں نہیں رہا پھر اپنے کفر کی خبر اے قوم لیجئے آیت علیکم انفسکم یاد کیجئے ایسا گماں کہ مہدیٔ خونی بھی آئے گا اور کافروں کے قتل سے دیں کو بڑھائے گا اے غافلو! یہ باتیں سراسر دروغ ہیں بہتاں ہیں بے ثبوت ہیں اور بے فروغ ہیں یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آچکا یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا اب سال ستر۱۷ہ بھی صدی سے گذر گئے تیسری قربانی جس کو اسلام نے بعض جانوروں کو اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی یاد کرکے ذبح کرنے اور ان کا گوشت پکاکر استعمال کرنے کا حکم دیا ہے اس قربانی کے منشاء بہت ہیں۔تم میں سے ہائے سوچنے والے کِدھر گئے تھوڑے نہیں نشاں جو دکھائے گئے تمہیں کیا پاک راز تھے جو بتائے گئے تمہیں پر تم نے اُن سے کچھ بھی اُٹھایا نہ فائدہ مُنہ پھیر کر ہٹا دیا تم نے یہ مائدہ بخلوں سے یارو باز بھی آئوگے یا نہیں خُو اپنی پاک صاف بنائو گے یا نہیں باطل سے میل دل کی ہٹائو گے یا نہیں حق کی طرف رجوع بھی لائو گے یا نہیں اب عذر کیا ہے کچھ بھی بتائوگے یا نہیں مخفی جو دل میں ہے وہ سُنائو گے یا نہیں آخر خدا کے پاس بھی جائو گے یا نہیں اُس وقت اُس کو مُنہ بھی دکھائو گے یا نہیں تم میں سے جس کو دین و دیانت سے ہے پیار اب اُس کا فرض ہے کہ وہ دل کرکے اُستوار لوگوں کو یہ بتائے کہ وقتِ مسیح ہے اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے ہم اپنا فرض دوستو اب کر چکے ادا اب بھی اگر نہ سمجھو تو سمجھائے گا خُدا