نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 170
نام والی۔پاربتی پہاڑ کے نام والی۔پرندوں کے نام والی اور اس قسم کے نام والیوں سے نکاح نہ کرنا۔نمبر۹ میں کہا ہے نہ زرد رنگ والی۔نہ بھوری آنکھ والی وغیرہ۔نمبر۱۱میں کہا ہے جس کانام زیبا جیسے بشودہا۔سکہدا وغیرہ ہنس اور ہتھنی کے برابر جس کی چال ہو جس کے باریک بال۔سر کے بال اور چھوٹے دانت والی ہو اور جس کے سب اعضاء ملائم ہوں ایسی عورت کے ساتھ بیاہ کرنا۔اس قدر حوالے غالباً اگر تم شریف الطبع ہو تو کافی ہیں۔پس بڑا اور مہان پاپ کیا اس پاپی نے جس نے ست کے ارتھ میں ایسی شلیل باتوں کا ذکر کیا اور اس کے پڑھنے کو کہا۔بدبخت!کامل کتاب ضروریات اور حقیقی راحت بخش بات کا بیان نہ کرے تو کیا چنڈالوں کی کتابیں سچائی بیان کریں۔کامل کتاب وہ نہیں ہو سکتی جس میں صرف برہمچریہ زندگی کا ہی تذکرہ ہو، نہ وہ جس میں صرف چند اخلاقی باتوں کا ہی تذکرہ ہو،نہ وہ جس میں صرف سوشل امور کا بیان ہو، نہ وہ جس میں صرف سیاست وانتظام کامعاملہ بیان ہو،نہ وہ جو صرف امور آخرت کے متعلق بحث کرے، نہ وہ جس میں صرف عبادات کا ذکر ہو۔کامل کتاب تو وہ ہے جس میں انسانی اخلاق وعادات، معاملات،سیاست ،تمدن ،اموربعدالموت اور الٰہی تعظیمات کی تعلیم بو جہ اتم بیان ہو۔یہ بھی ایک موقع اسلام پر اعتراض کا بعض احمقوں کو ملا ہے۔مثلاً کسی نے دیکھا کہ عورتوں کے متعلق قرآن شریف میں بحث ہے۔پولٹیکل بحثیں ہیں توا یک نامرد ونامراد کس مپرس بول اٹھا کہ ا ن مباحث کی کتاب الٰہی میں کیا ضرورت ہے؟ صرف بہجن اور توصیف الٰہی کے گیت کافی تھے۔چند لڑکے ان کو یاد کر لیتے اور وہ ڈھولکی پر گاتے اور نگرکیرتن کرتے۔ایک کنجوس اور غریب ومفلس بول اٹھتا ہے کہ زکوٰۃ اور اعطاء صدقات کا کیوں قرآن شریف میں ارشاد ہے؟ ہمیشہ کا مفتوح ملک اور جس نے کبھی ذرہ سر اٹھایا تو مونہہ کے بل گرا۔شریروں ،بدمعاشوں سے جنگ کا تذکرہ سن کر کیا خوشی حاصل کر سکتا ہے؟ جس کو کبھی مکالمات الٰہیہ کا شرف حاصل نہیں ہوا وہ برہمو مت کا آدمی یاعام طور کا غافل یا جس کو یقین ہے کہ الٰہی مکالمہ کا شرف دوارب برس کے قریب