نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 168
دروازے سے اور ایسے آدمی کا انجام اچھا ہو گا۔ومن رای غلمانھا یطوفون حولہ نال مملکۃ ونعیماً لقولہ تعالیٰ ویطوف علیھم ولدان مخلدون۱؎ (منتخب الکلام جلد اول صفحہ۵۴) اورجوکوئی جنت کے نوجوانوں کو دیکھے کہ اس کے اردگرد پھرتے ہیں وہ بادشاہ ہوجائے گا اور نعمتیں حاصل کرلے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور خدمت کو پھرتے ہوں گے ولدان جن کے بالوں میں سفیدی آگئی۔سوال نمبر۴۰۔ (الدھر :۲۲) (الکھف :۳۲) بھلا کوئی شائستگی ہے کہ عورتوں کا گہنا آدمی پہننے لگ جاویں۔کیا بی اے مولوی ہیجڑوں کی طرح کنگن پہن کر پھریں گے۔پھر ہنسی کی ہے۔الجواب۔حُلُّوا کا ترجمہ زیور دئیے گئے۔یحلون کا ترجمہ ہے زیور دئیے جائیں گے۔یہ بھی غریب عرب کو ایک وعدہ تھا اور زبردست پیشگوئی ہے۔چنانچہ ایک شخص سراقہ بن مالک بن جعشم المدلجی نامی کو حضرت نبی کریم نے اس کے خالی ہاتھ دیکھ کر (ا ن پر بال بہت تھے اور ہاتھ نہایت پتلے تھے) فرمایا: کانی بک قد لبست سواری کسرٰی۔میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھے کسرٰی کے کنگن پہنائے گئے۔مدتو ں کے بعد جب خدا تعالیٰ کے وعدہ کے دن آئے اور خدا کے برگزیدہ بندوں نے آریوں کے بھائی ایرانیوں کے ملک کو فتح کیا اور فتوحات ایران کامال سونا، یاقوت، زبرجد اور لؤلؤ بکثرت آیا اور اس میں خاندان شاہی کے زیورات آئے تو حضرت عمر ؓ نے خاص کسریٰ شہنشاہ کے کنگن اس عربی مدلجی کو پہنا دئیے اس لئے کہ وہ پیشگوئی پوری ہوجو نبی کریم ﷺ نے کی تھی اور جو قرآن کریم میں مفصل مذکور ہے۔دیکھو امام شافعی کی روایت ازالۃ الخفا صفحہ ۱۳۰ جلد۲