نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 167
ُ الْخَمْرِ دَلِیْلٌ عَلَی السُّکرِ مِنْ حُبِّ اﷲِ تَعَالٰی وَ الْبُغْضِ عَنْ مَحَارِمِہٖ وَ نَھْرُالْعَسْلِ دَلِیْلٌ عَلَی الْعِلْمِ وَالْقُرْاٰنِ (تعطیر الانام صفحہ ۳۲۶) اور خواب میں نہر کو دیکھنے سے مراد ہوتا ہے عملِ صالح اور دائمی رزق۔یہ بھی مسلمانوں کوملا۔دُودھ کی نہر دیکھنے سے مراد ہے فطرتِ صحیحہ اور شراب کی نہر سے مراد ہے اﷲ تعالیٰ کی محبّت کے نشہ سے سرشار ہونا اور اس کی حرام کردہ اشیاء سے بُغض رکھنا اور شہد کی نہر سے مراد ہے علم اور قرآن کا حاصل ہونا۔نَھْرُالْکَوْثَرِ فِی الْمَنَامِ نُصْرَۃٌ عَلَی الْاَعْدَائِ بِقَوْلِہٖ تَعَالٰی اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ (تعطیرالانام صفحہ ۳۲۵) نہر کوثر کا رؤیا میں دیکھنا دلیل ہوتا ہے اَعداء پر مظفّر و منصور ہونے پر جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کلام اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ سے مستنبط ہوتا ہے۔چنانچہ بے چارگی اور بے سامانی کے زمانہ میں جبکہ ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم مکہ معظمہ میں دشمنوں کے ہاتھوں سے شکارِ لاغر کی طرح دُکھ اُٹھا رہے تھے۔یہ وحی آپ کو عالم الغیب قادر خدا کی طرف سے ہوئی کہ ہم نے تجھ کو الکوثر عطا فرمایا ہے۔دنیا جانتی ہے کہ وہ مظلوم بیکس انسان جسے اپنے بیگانوں نے پاؤں کے نیچے مسلنا چاہا تھا کس طرح اپنے اَعداء پر منصور و مظفر ہوا اور اس کے قوی اور متکبر دشمن خاک میں مل گئے۔سوچو اور غور کرو کہ یہ غیب کی باتیں کس طرح حرفاً حرفاً پوری ہوئیں اور خدا کے غضب سے ڈرو۔من رای الملا ئکۃ یدخلون علیہ و یسلّمون علیہ فی الجنۃ فانہ یصیر الی امر یصل بہ الی الجنۃ لقولہ تعالٰی و الملا ئکۃ یدخلون علیھم من کل باب الایۃ ویختم لہ بالخیر۔( منتخب الکلام صفحہ۵۵) جوکوئی دیکھے کہ فرشتے جنت میں اس پر داخل ہوتے اور سلام کرتے ہیں وہ ایسے کام کرے گا جن کے باعث جنت میں پہنچے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور فرشتے داخل ہوں گے ان پر ہر ایک