نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 166
کے پاس صاف ہو کر آتے ہیں۔صفحہ۹۷ نیز اگر نہروں والی بہشت ناپسند تھی تو تمہارے آریہ کو جو تبت میں آباد تھے جب اپنے ملکوں سے اپنے کرموں انسار سے (نتائج اعمال ) جلاوطنی کا انعام ملا تھا تو چاہیئے تھا کہ افریقہ کے ریگستان میں جاتے انہوں نے انڈیا کو کیوں پسند کیا جس میں دُودھ اور شہد اورہر قسم تعیش اور تنعم کی نہریں بہتی ہیں۔تم کیسے شریر ہو مکہ معظمہ کا تذکرہ ہو تو اُسے ریگستان سمجھتے ہو اور اگر نہروں کا تذکرہ ہو تو اس پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہو۔تم اس پر راضی ہو کہ تمہیں نرگ میں بھیج دیا جاوے۔حقیقی جواب نَھَر کے معنے کثرت کے ہیں اور نَھر کے معنے ندی کے ہیں اور وہ آیات جن میں نہروں کے عطیہ کا تذکرہ ہے وہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے اصحاب کرامؓ کے حق میں ان کی محنتوں، مشقتوں اور تکالیف کے بدلہ جو انہوں نے اپنے پاک نبیؐ کی اتباع میں اُٹھائیں اﷲ کی طرف سے وعدہ تھا کہ انہیں اِسی جنم میں ریگستان عرب کے بدلہ نہروں والے ملک عطا کروں گا۔چنانچہ جیسے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا اور آپؐ کے سچّے اور مخلص اتباع ان بلاد کے مالک ہو گئے جن میں دجلہ ،فرات، جیحون، سیحون، یردن اور نیل بہت تھے اور اسی پیروی کی برکت سے مسلمانوں نے آریہ ورت کو بھی لے لیا جس میں گنگا ،جمنا اور سرسوتی بہتے ہیں۔سوچو اور خوب غور کرو کیسے قبل از وقت بتایا ہوا وعدہ پورا ہوا اور مفصل بہشت کے مضمون میں آچکا ہے اور جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں ان الفاظ کے حقائق کے سمجھنے کے لئے ہمیں کتب تعبیر الرُّؤیا کی طرف رجوع کرنا چاہیئے چنانچہ نھر کے حقائق کی نسبت ان میں ہم یہ پاتے ہیں۔اَلنَّھْرُ یَدُلُّ عَلٰی اِقْلِیْمِہٖ کَسَیْحُوْنَ وَ جَیْحُوَْنَ وَالْفُرَات َوالنِّیْلَ۔نہر سے مراد یہ ہے کہ ایسی اقلیمیں جن میں نہریں بہتی ہیں جیسے سیحون اور جیحون اور فرات اور نیل اسلام کے قبضہ میں آ جائیں گی اور آخر وہ آ گئیں۔وَ النَّھْرُ فِی الْمَنَامِ عَمَلٌ صَالِحٌ أَوْرِزْقٌ وَ نَھْرُ اللَّبَنِ دَلِیْلٌ عَلَی الْفِطْرَۃِ وَنَھْرُ