نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 164
سرب شکتی مان اور قادر کسی کا محتاج نہیں ہوتا اس کے ارادہ سے سب کچھ ہوتاہے اور سنو! یہ ریشمی کپڑے وغیرہ نعمتیں تو عظیم الشان پیشگوئی ہے۔عرب خشن یعنی کھردرے اور سادہ لباس کے عادی تھے۔خدا تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کی جزا میں ان کو بشارت دی گئی کہ عنقریب شام وایران کے شاہی ریشمی لباس تم کو دئیے جائیں گے یہ فتح مندی کا وعدہ ہے۔آخر ریشمی لباس اسی کو پہنایا جاتا ہے جس کے مناسب حال ہوتا ہے۔ہم کو بعض وقت ریشمی لباس،ریشمی تھان،اور زیو ر اُمراء نے دئیے ہیں مگر کبھی ہمارے یا ان کے خیال میں نہیں آیا کہ وہ لباس یا زیور ہم پہنیں گے وہ جن کے مناسب حال تھا ان کو پہنا دیا گیا۔اور سنو!یہ قبل از وقت ہمارے سرور کامشاہدہ ہے اور قبل از وقت نظارہ کو عربی میں رؤیا کہتے ہیں اور ریشمی لباس کے متعلق علم رؤیا کا پرما ن یہ ہے اس کو غور کرو اور دیکھو کہ ہمارے نبی کریم ؐ کے مکاشفات آخر کار کس قدر صحیح اور صادق ثابت ہوئے اور جو باتیں اس جہان میں قبل از وقت بطور دعوے کے بتائی جاکر روز روشن کی طرح اپنا ثبوت آشکار کر دیں ان سے بڑھ کر اورکون شے صدق کی مہر اپنے اوپر رکھ سکتی ہے۔اب ان معانی کو رؤیا کی کتابوں میں دکھاتے ہیں۔الثیاب الخضر۔قوۃ و دین و زیادہ عبادۃ للاحیاء و للاموات حسن حال عند اللّٰہ تعالٰی۔(منتخب الکلام صفحہ۱۱۰) لباس سبز سے مراد ہے زندوں کے لئے قوت اور دین اور عبادت میں ترقی اور مردوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک خوشحالی ہے۔الدیباج و الحریر و جمیع ثیاب الابریسم ھی صالحۃ لغیر الفقہاء فانّھا تدلّ علٰی انھم یعملون اعمالا یستوجبون بھا الجنۃ و یصیبون مع ذٰلک ریاسۃ۔والثیاب المنسوجۃ بالذھب والفضّۃ صلاح فی الدین و الدنیا و بلوغ المنٰی۔ومن رای انہ یملک حللا من حریر او استبرق او یلبسھا علی انہ تاج او اکلیل من یاقوت فانہ رجل ورع متدین غازٍ و ینال مع ذٰلک ریاسۃ۔(منتخب صفحہ۱۱۱) دیباج اور ریشم اور ہر قسم کے ریشمی کپڑے فقہاء کے سوا اوروں کے لئے بہت اچھے ہیں ا ن کے