نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 139 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 139

(البقرۃ :۷) اس بیان سے اتنا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسے منکرلوگ ہیں جن کے لئے ختم اللہ کا ارشاد ہے۔عام نہیں۔پھر قرآن کریم نے صاف صاف بیان فرمایا ہے جہاں ارشاد کیا ہے۔  (النساء :۱۵۶) یعنی ان کے کفر کے سبب ان کے دلوںپر مہر لگا دی۔اس سے معلوم ہوا کہ مہر کا باعث کفر ہے۔انسان کفر کو چھوڑے تو مہر ٹوٹ جاتی ہے۔اسی طرح فرمایا: (المومن :۳۶) پس تفصیل دونوں آیتوں کی یہ ہے (البقرۃ : ۷) (تحقیق جن لوگوں نے کفر کیا)یاد رکھو کہ کفر کرنا کافر انسان کا اپنا فعل ہے۔جیسے قرآن کریم نے بتایا اور یہ پہلی بات ہے جو کافر سے سرزد ہوئی ہے اور یہ کفر خدا داد روحانی قوتوں طاقتوں سے کام نہ لینے سے شروع ہوا جو دل کی خرابی کانشا ن ہے۔(برابر ہو رہا ہے ان کے نزدیک خواہ ڈرایا تو نے یا نہ ڈرایا تو نے)یعنی تیرے ڈرانے کی کچھ پرواہ نہیں کرتے۔یہ دوسرا فعل کافر انسان کا ہے کہ اس نے اپنی عقل وفکر سے اتنا کام بھی نہیں لیا اگر اس میں یہ خوبی نہ تھی کہ ایان کے لئے خود فکر کرتا سوچتا۔عقل سے اپنا کام لیتا تو کم سے کم رسول کریم کے بیانات کو ہی سنتا کہ کفر کا نتیجہ کیسا برا اور اس کفر کا انجام کیسا برا ہے۔نہیں مانتے یہ تیسرا فعل کا فر انسان کا ہے اول توضرور تھا کہ قلب سے کام لیتاجو روحانی قوت کامرکز ہے۔اگر اس موقعہ کو ضائع کر چکا تھا تو مناسب یہ تھا کہ نبی کریم کی باتیں سنتا پس کان ہی اس کے لئے ذریعہ ہوجاتے کہ ایماندار بن جاتا اور یہ دوسرا موقع حصول ایمان کا تھا۔پھر اگر یہ بھی کھو بیٹھا تو مناسب تھا کہ پکے ایمانداروں کے چال چلن کو دیکھتا جو ایسے موقع پر اسی کے شہر میں موجود تھے اور یہ بات اس کافر کو آنکھ سے حاصل ہو سکتی تھی۔مگر اس نے یہ تیسرا موقع بھی ضائع کر دیا۔