نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 137
صرف خدا کے پیغام پہنچا دینا ہے۔عبادت واطاعت اور فرمانبرداری کا اصل باعث امید وبیم ہے اسی واسطے بت پرست بتو ں کی عبادت کرتے ہیں کہ ان سے ان کو نفع کی امید وضرر کا ڈر ہے اور اہل اسلام کو کعبہ کی نسبت یہ اعتقاد نہیں۔ہندی بت پرست اور عیسائی قوموں کا یہ حال ہے کہ ہندو بت پرست تو پرمیشر کو اکرتا اور نرنکار شترتا اور مترتا سے پوتر جان کرشیو اور بشنو وغیرہ ہزاروں دیوتا کی پرستش کیا کرتے ہیں جن سے ان کو امید وخوف ہوتاہے اور عیسائی باری تعالیٰ کو ایسا عادل جو نجات نہ دے سکے یقین کر کے حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کو منجی نجات دینے والا اعتقاد کر کے ان کی پرستش کرتے اور عبادت کرکے شرک میں گرفتار ہیں۔ہفتم۔علم اگر معلوم کا تابع ہے تو حکم محکوم کا تابع نہیں۔حکم ہمیشہ حاکم کا تابع ہوا کرتا ہے کیا معنے؟ علم میں عالم کی رضا واختیار کو دخل نہیںجیسا معلوم ہوتا ہے ویسا ہی سچا علم ہوا کرتا ہے اور حکم میں حاکم کو اختیار ہوتا ہے اپنی مرضی کے مطابق جو چاہے حکم کر دے۔محکوم کی مرضی کو اس میں دخل نہیں۔محکوم کا فرض ہے کہ حاکم کا حکم سن کر اس میں چون وچرا نہ کرے بلکہ حاکم کی مرضی کا تابع رہے۔مگر ہاں قابل لحاظ یہ امر ہے کہ اگر وہ حکم ایسے علم واعتقاد پر مبنی ہو جو خلاف واقعہ ہے تو پھر اس حکم کو بلاتامل اغواء شیطانی سمجھے نہ ارشاد ربانی کیونکہ لاجرم علم معلوم کے تابع ہوا کرتا ہے مثل حکم تابع حاکم نہیں۔اگر یہ بات ہے تو پھر استقبال کعبہ میں حکم الٰہی کی تعمیل لازم ہے۔اس لئے کہ اس حکم کا مدار کسی اعتقاد خلاف واقعہ امر پر نہیں بلکہ کسی واقعی اعتقاد کی بھی ضرورت نہیں فقط حکم کی ضرورت ہے۔البتہ اگر اسلام میں استقبال کعبہ میں کعبہ پرستی ہوتی تو بے ریب مثل بت پرستی کے یہاں بھی اس اعتقاد کی ضرورت ہوتی کہ کعبہ عبادت کا مستحق ہے مگر اسلام میں استقبال کعبہ کا مطلب اتنا ہے کہ خدا کی عبادت اس طرف کرو کیونکہ اوّل تو انسان مقید فی الجہت ہے اگر اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہوتا کہ جہت سے علیحدہ ہو کر جسمانی عبادت کرے تو انسان پر تکلیف مالایطاق کا بوجھ ڈالا جاتا