نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 136 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 136

پنجم۔خانہ کعبہ کو اسلام والے بیت اللہ کہتے ہیں اور بالکل ظاہر ہے کہ کوئی شخص کسی کے مکان کو جاتا ہے تو اس کا مطلب مکان والا ہوا کرتاہے۔کسی تخت نشین بادشاہ اور بزرگ کے آداب ونیاز اس کے تخت کے سامنے تخت کے آداب نہیں ہوا کرتے اور بت پرست بتوں کو خدا نہیں جانتے بلکہ جن کے بت ہوا کرتے ہیں ان کامظہر جانتے ہیں۔ششم۔مستحق عبادت اسلام کے نزدیک صرف وہ ہے جو خود موجود کل کے نفع و ضرر کا مالک و مختار ہو اور اس کا نفع وضرر کسی سے ممکن نہ ہو۔وہی جس کا کمال جلال وجمال ذاتی ہو اور تمام اس کے سوا اپنے وجود وبقا میں اسی کے محتاج سب کے کمالات جمال وجلال اسی کے عطا ہوں اور ایسی چیز اللہ تعالیٰ کے ماسوا اہل اسلام کے نزدیک کوئی بھی نہیں۔سب سے افضل ،اکمل ،اتم حضرت سید ولد آدم ﷺ کا وجود باجود ہے۔ان کی پاک جناب کو بھی اسلامی اللہ کا بندہ اللہ کا رسول ہی اعتقاد کرتے ہیں۔اسلام کا اعتقاد ہے کہ ایک ذرہ کے بنانے کا بھی اختیار انہیں نہیں۔ایک رتی برابر کسی کے نقصان دینے کی قدرت نہیں۔آپ خالق کائنات نہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔  ۔  ۔۔ (الجن :۱۹تا۲۴) اور مسجدیں اللہ کے لئے ہیں پس اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔اور جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لئے اوٹھا تو اس پر ٹوٹ پڑنے لگے۔کہہ میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہیں کرتا۔کہہ میں تمہارے ضرر اور نفع کا اختیار نہیں رکھتا۔کہہ کوئی مجھے خدائی عذاب سے پناہ نہیں دے سکتا اور نہ میرے لئے اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ ہے میرا کام تو