نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 107 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 107

کردینا۔زندگی کا تلخ کر دینا۔پھر سن !! باری تعالیٰ کی مقدس بابرکت ذات پاک نے انسان کو استطاعت ،نیک وبد کی تمیز۔عقل اور فطرت مرحمت فرما کر ہزاروں ہزار انبیاء اور رسول اور کتابیں اور اپنی رضا مندی کے اسباب بتاکر دنیا میں ہدایت کو پھیلایاہے اور انبیاء اور ان کے سچے اتباع اور فرمانبرداروں کی ہمیشہ نصرت اور اعانت فرمائی ہے۔ہاں! بااستطاعت انسان پر جبر نہیں فرمایا کہ اس کی گردن پکڑ کر اس سے نیک اعمال کرائے۔شیطان اور اس کے ذرّیات کے وجود سے یہ فائد ہ ہے کہ انسانوں میں فرمانبرداروں کو فرمان برداری کی خلعت وعزت عطا فرماوے مگر پھر بھی شیطان کو یہ اختیار نہیں دیا کہ لوگوں کو بجبر گمراہ کرے۔چونکہ انسان بڑے درجات کا طالب تھا اور بغیر صدق وصفا انعام نہیں مل سکتا اس واسطے دو محرک نیکی وبدی کے یعنی فرشتہ اور شیطان پیدا کئے۔قانون قدرت اس بات پر دلالت کرتاہے۔سب لوگ اپنے نفس میں دو محرک محسوس کرتے ہیں۔قاتل پہلے قتل کرتا بھی ہے اور پچھتاتا بھی۔پس واقعی فرشتہ وشیطان کا وجود عالم میں ہے۔اگر وید کامل ہے تو اس میں ضرور یہ فلسفہ ہو گا۔فرق الفاظ میں ہو تو کوئی بات نہیں ولکل ان یصطلح۔ان محرکات کی اصلاح تم میں کیاہے؟ بتاؤ اورکھول کر بتاؤ !!! شیطان کی منہ درمنہ بات کا جواب اضداد کا مقابلہ ایک واقعی اور صحیح بات ہے کیمسٹری کی شہادت ،مرکبات عالم بلکہ بسائط کی نسبت اگر نہ لیں تو بھی لطیف وکثیف کا سنگرام(جنگ)سعید وشقی۔سرپشٹ ودیسیو۔مومن وکافر۔دیود اسُر کا یُدھ کوئی مخفی راز نہیں۔اللہ تعالیٰ ہدایت کے لئے اپنا کلام نازل فرماتا ہے بایں ہمہ ایک عالم اس کے مقابلہ کے لئے بھی اٹھ کھڑاہوتاہے تم اپنی جگہ دیکھو لو۔وید جسے تم کلام الٰہی مانتے اور قدامت کو اس کی سچائی کی بڑی دلیل بتاتے ہو ہندوستان کے فرزندوں نے اس کے مقابلہ کے لئے ہتھیار نکالے اور اسے رد کیا۔اور اس کی قدامت اور صداقت کے ابطال کی غرض سے تمہارے بھائی جینی