نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 101
بعثت انبیاء ورسل علیھم الصلوٰۃ والسلام اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت کی شان یہ ہے کہ جب کوئی مخلوق سچی محنت وسعی کرے اللہ تعالیٰ اس کی سعی وکوشش پر پاک ثمرات مرتب فرماوے۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھ پہنچانے کیلئے جس طرح ہم کو بہت سی قوتیں اور طاقتیں ظاہر یہ اور باطنیہ عطا کی ہیں اسی طرح سکھ حاصل کرنے کو طرح طرح کے اور سامان بھی بخشے ہیں۔منجملہ ان سامانوں کے پاک کتابیں پاک روحیں اور مزّکی اور مطہّر کرنے والے انبیاء و رسل ہیں جن کاکام علاوہ بریں کہ ہمیں الٰہی کلمات طیبات پڑھ کر سناویں یہ بھی ہے کہ ان کے معانی بھی ہمیں بتائیں اور یہ بھی ان کاکام ہے کہ اپنی مقناطیسی طاقت اور سچی دعاؤں اور کامل کوششوں سے ہمیں مزّکی اور مطہّر بھی کریں۔اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتیں ایسی پاک جماعت پر نازل ہوں۔ایسی کھلی تعلیم اور واضح اصول ایک کتاب کے ہوں اور اس پر اعتراض کیا جائے حقائق سے ٹھٹھ بازی اور سنگ دلی کا ثبوت دینا ہے۔سچی اور خدا کی طرف سے کتاب کا کام اس کے سوا نہیں کہ وہ مطابق واقع امور اور حقائق کو بیان کرے یعنی خدا تعالیٰ کے کام کو جو نظام کائنات میں نظر آتاہے اور اس کے دقائق کا سمجھنا عام سمجھوں پر آسان نہیں صاف لفظوں میں واضح کردے۔ہم کہتے ہیں کہ قرآن کریم نے بدی اور اس کے محرکات اور اس کے چشموںکا اور نیکی اور اس کے محرکوں اور بواعث کا فلسفہ بیان کیا ہے۔پھر اسے دوسرے لفظوں میں یوں سمجھو کہ قرآن کریم میں مذکور ہوا ہے کہ دنیا میں بدی ایک شئے ہے اور اس کا محرک بھی کوئی وجود ہے جس کا نام شیطان ہے۔یہ امر واقع ہے انسان کو خدا کی طرف سے استطاعت ملی ہے کہ وہ بدی کی تحریک سے بچ سکے۔یہ امر واقع ہے خدا تعالیٰ کی صفات میں داخل ہے کہ وہ اصلاح عالم کے لئے مصلح اور ہادی بھیجا کرتا ہے۔یہ امر واقع ہے انسان کی استطاعت اور وسعت میں ہے کہ ان راہنماؤں کی آوازوں کو سن کر نیکی کی راہ پر قدم مارلے۔یہ امر واقع ہے خدا تعالیٰ کی صفات میں داخل نہیں کہ وہ جبر اور اکراہ سے خواہ مخواہ کسی کے دل کو ہدایت کی طرف کھینچے یا کشاں کشاں ہلاکت کی طرف لے جاوے۔یہ امر واقع ہے تمام