نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 102
مذاہب کے نزدیک مسلم ہے کہ خدا کو نیکی سے پیار اور بدی سے نفرت ہے۔وہ قادر مطلق ہے جو چاہے کر سکتا ہے اس کی سلطنت میں کوئی شریک اور اس کے ارادوں کے راہ میں کوئی مانع نہیں۔باوجود اس کے یہ امر واقع ہے کہ بدی ہے اور ہو رہی ہے اور زور سے اس کی رَو چل رہی ہے اور خدا کے فعل میں اس کی قادر مطلق حکومت میں اس کے آثار اور ظہور نظر آرہے ہیں اور اس کے مقابل ایک گروہ ہمیشہ سے چلا آتاہے جو اس سے کشتی کرتا اور لوگوں کو ا س کی طرف جانے سے روکتا ہے۔یہ امور ہیں جو قانون قدرت میں اورخود انسان کی فطرت میں صاف صاف دیکھے جاتے ہیں۔انہی نفس الامر ی باتوں کا نقشہ قرآن کریم نے اس مخفی محرک اور طاقت کے ظہوروں کی حقیقت بتا کر دکھایا ہے بدی کا جو محرک اس کا نام شیطان ہے اور نیکی کے محرک ملائکہ اور نیک لوگ ہیں۔آریوں کا یہ فرض تھا اور ان کے ذمہ بڑا بھاری قرضہ ہے کہ وہ قرآن کریم کے اس سچے فلسفہ کے مقابل وید سے دکھاتے کہ وہ انسانی فطرت اور قانون قدرت کے مطابق نیکی اور بدی اور ان کے محرکات اور مزیلات کا یہ فلسفہ بیان کرتاہے۔یہ سفیہانہ طریق جو انہوں نے اپنے لئے پسند کیا ہے کہ تمام حقائق پر بے باکی سے زبا ن طعن کھولتے ہیںیہ طریق سچے علوم اور تحقیق حق کا دشمن ہے۔آریہ کو تو ویدوں کے تراجم سے بھی مضائقہ ہے۔سوال نمبر ۱۱۔’’خدا پاکیزگی پسند ہے۔پھر ناپاک کو پاک کرنا نہ چاہا۔ناپاکی اور گمراہی بڑھاتا ہے‘‘ الجواب۔تارک نے آیات ذیل سے تمسک کیا ہے اور قرآن کریم کی زبان نہ سمجھنے سے ضلالت کے گڑھے میں گرا ہے۔اس کا اعتراض(المائدۃ:۴۲) پر ہے۔اب ہم پوری آیتیں لکھ کر اصلی حقیقت کا اظہار کرتے ہیں۔۱۔