نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 81 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 81

اس کی اس تعریف اور تجدید سے سخت مخالف اور مناقض پڑے ہوں جو اس نے خدا تعالیٰ کی ذات کی نسبت کی اور ایک جہاں کو اس کی طرف دعوت کی ہے۔ ایک عظیم الشان امر ہے جس کی پابندی تمام دنیا سے چاہی گئی ہے باایں ہمہ وہی کتاب پسند کرتی ہے یا بلفظ دیگر یوں کہو کہ اپنی دیوانگی کا ثبوت دیتی ہے کہ خدا کو گھنونے اور ناپاک ناموں سے بھی پکارا کرو؟۔ایسی صریح تناقض اور دیوانہ پن کی تعلیم سے سب سے اول نفرت سے گریز کرنے والے وہ لوگ ہوتے جو اس تعلیم کے پہلے مخاطب تھے اور جن کے فہم کی جودت اور ذکاوت دانش مند دنیا میں ضرب المثل ہے مگر وہ اس لغت کو خوب سمجھتے تھے جس میں خدائے قدوس نے ان سے خطاب کیا۔اس لئے وہ ہر لفظ کو اس کے درست محل میں اتارتے تھے۔افسوس ! تارک اسلام نے نہ صرف کورانہ تعصب کا ثبوت دیا ہے بلکہ اس نکتہ چینی سے صاف طور پر ثابت کر دیا ہے کہ اس آریہ قوم کو لغت اور محاورہ لسان عرب کے سمجھنے سے کس قدر دوری ہے۔اگر تارک اسلام میں ذرا بھی حق بینی اور حق فہمی کا مادہ ہوتا تو پہلا سوال اس کے دل میں یہ پیداہونا چاہیے تھا کہ لفظ مکر اور کید اور ایسے الفاظ کے معانی لغت عرب میں تلاش کرنے چاہئیں اور یہ بھی ضروری بات ہے کہ قرآن کریم کی وجاہت اور صاف دعوے اور عام اور بین تعلیم اور عام اصول اور واضح عرف کو مدنظر رکھ کر ان الفاظ کی حقیقت اور مغز کی پیروی کرنی چاہیے مگر افسوس خودغرض جلد باز نے ایسا نہیں کیا !بلکہ اس منشاء اور معنی کو لیا ہے جو ہندوستان اور پنجاب کی وکیبلری نے ان الفاظ کو زبردستی سے بخشا ہے۔بہادر اور جری قوم عرب کے الفاظ کے معنے ہند کی کمزور دل مغلوب و مفتوح قوم کی ڈکشنری میں ڈھونڈنے اور ان پر حصر کرنا سچے علوم سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ہند وپنجاب نے لفظ مَکَر کے جو معنے کئے وہ ان کے اپنی فطرتوں اور بزدل طبیعتوں کے سچے عکس اور نتائج ہیں۔عربی لسان میں ان کا وہ مفہوم نہیں۔عربی زبان میں ان کا وہ مفہوم ہے جو ان کی واضح اور بہادر فطرت کے مطابق ہے اور اس کے عمل درآمد پر رسول کریم ﷺ اور صحابہ کی زندگی سچا گواہ ہے اور جسے ہم عنقریب عرب کی