نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 80
۔(الفا تحۃ :۲)ہر قسم کی حمد اللہ کے لئے ہے جو جہانوں کا رب ہے۔اسی طرح قرآن کریم کے ابتدا میں ہے۔۱؎ (الفاتحۃ :۱تا۴) اور قرآ ن کریم کے آخر میں ہے۔۲؎ (الاخلاص :۲تا۵) اور بالکل آخر میں ہے۔۳؎ ِ(الناس :۲تا۴) جائے غور ہے کہ ایک کتاب جو خدا تعالیٰ کی نسبت ایسے پاک اور بے عیب اسماء اورخوب صورت صفات کے اطلاق اور منسوب کرنے کی تعلیم دے ایک عقل مند کیونکر تصور میں بھی لا سکتا ہے کہ وہی کتاب اسی قدوس خدا کی نسبت معاً اپنے اندر ایسے اسماء اور صفات مندرج کرنا گوارا کرے گی جو سب صفات کاملہ اللہ ہی کے لئے ہیں۔سارے جہانوں کا رب۔بے مانگے دینے والا اور محنت کو نہ ضائع کرنے والا۔مالک وقت جزاوسزا کا۔۲؎ تو کہہ دے کہ وہ ہست جس کا نام اللہ ہے تمام کمالات سے موصوف تمام بدیوں سے منزہ معبود (پوجنے)ایک ہے(ذات میں یکتا صفات وافعال میں بے ہمتا)اللہ اصل مقصود و محتاج الیہ سردار۔نہ کسی کو اس نے جنا اور نہ کسی سے جنا۔کوئی بھی اس کے جوڑ کا نہیں۔۳؎ تو کہہ دے حفاظت چاہتا ہوں تمام لوگوں کے رب سے تمام لوگوں کے بادشاہ سے تمام لوگوں کے ایک ہی معبود سے۔