نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 66 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 66

ہیں جنہوں نے (المائدۃ:۴) کی آواز اپنی زندگی میں اپنے کانوں سے سنی اور   (النصر :۳)کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ﷺ وبارک فانہ حمید مجید۔اس پر بھی نہ ماننے والوں نے نہ مانا پر نہ مانا۔میں نہ مامور نہ مجدد۔پھر میری اس کتاب کو اور اس کے جوابات کو مامور و مجدد اور امام الوقت نے نہ دیکھا اور نہ سنا۔پینتیس سوال کے جواب تک ہمیں موقع لگا کہ ہم اپنے جواب حضرت امام علیہ السلام پر عرض کر سکے بلکہ ہمارے بزرگ سید محمد احسن صاحب نے بھی اس کو نہیں دیکھا۔ہاں میرے پیارے دوست اور میرے معزز حبیب مولوی عبد الکریم صاحب نے د یکھا اور کہیںکہیں بقدر امکان اصلاح بھی کی۔ہمارے مدرسہ کے علماء کو افسوس نہ ان باتوں سے دلچسپی ہے اور نہ اپنے محدود کاموں سے فرصت ہے کہ وہ بھی اس کتاب کو سنتے یا دیکھتے۔بہرحال اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اس کتاب کو ان سعید الفطرتوں کے حق میں نافع کرے گا جو اس کے علم میں ہیں۔(غرض) (۱)ہم اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں کہ ہے اور وہ موصوف بصفات کاملہ اور ہر ایک نقص سے منزہ ْ ہے اسی کے ارادہ اور اسی کی خلق سے یہ تمام مخلوق ہے۔وہ وراء الوراء محیط کائنات ۔۔وَ ھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ مُحِیْطٌ۔وَ ھُوَ الْاَوَّلُ۔وَ اَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَھٰی وَ ھُوَ الْاٰخِرُ ہے۔جب کہ ہمارا یہ عقیدہ اور یہ ایمان ہے تو سوفسطائی، دہریہ، مسیحی اور وہ یونانی منطقی اور سناتن جو اللہ تعالیٰ کو علت۔لابشرط بشرط لانرگن مانتا ہے اور وجودی، نیچری، آریہ سماجی جس کے نزدیک اللہ خالق ارواح۔خالق مادہ۔خالق زمانہ۔خالق فضا اور ان کے گن۔کرم سبہاؤ۔خواص افعال۔عادات کا خالق نہیں کیوں پسند کرنے لگا۔(۲)ہم اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں کہ وہ متکلم ہے۔اپنے پیاروں سے کلام کرتا ہے۔اسی کے ارادہ و مشیت سے اس کے کام ہوتے ہیں۔وہ کلام کرتا رہا۔کرتا رہتاہے اور کلام کرے گا۔اس